دیہات میں نئی جگہ جمعہ وعیدین قائم کرنا جائز نہیں!
کیا فرماتے ہیں علمائے دین مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ (۱) ہمارے گاؤں کی مسجد کا جو راستہ ہے، بارش کے دن میں پانی سے بھر جاتا ہے، نمازیوں کو جانے آنے میں تکلیف ہوتی ہے، اس گاؤں کا کوئی فنڈ نہیں ہے اور نہ کوئی چندہ دینے کو راضی ہے۔ ایک پڑھے لکھے انگریزی داں سے ذکر کیا گیا تو انہوں نے قربانی کی چرم کے پیسہ سے راستہ بنانے کا مشورہ دیا کیا چمڑے کے ( قربانی کے ) پیسہ سے راستہ کی مرمت کی جاسکتی ہے؟ (۲) خصی یعنی سربندی کئے ہوئے شخص کے پیچھے نماز جائز ہوگی یا نہیں ؟ اس کا ذبیحہ حلال اور جائز ہوگا یا نہیں؟ (۳) ہمارے گاؤں میں جو مسجد ہے وہاں عیدین کی نماز گزشتہ ساٹھ ستر سال سے پڑھی جاتی تھی۔ آس پاس کے چار چھ گاؤں کے نمازی شرکت کرتے تھے۔ دس پندرہ سال سے عیدین کی نمازیں تین جگہ ہونے لگی۔ نوجوان لوگ ایک ہی جگہ نماز پڑھنا چاہتے تھے اور اس واسطے ایک آراضی ہماری مسجد کے متصل فراہم کئے اور اس میں چار گاؤں کے نمازی عیدین ادا کرتے تھے تین سال قبل عید کے موقع پر رات کو بارش ہو گئی جس سے عید گاہ مرطوب ہو گیا۔ ایک گاؤں کے میاں لوگ اعتراض کئے کہ کپڑے خراب ہو جائیں گے ہم عید گاہ میں نہیں پڑھیں گے اور اڑ بیٹھے کہ عید مسجد میں پڑھی جائے لیکن اکثریت اس پر راضی نہ ہوئی اور عید گاہ میں نماز ادا کئے اور میاں لوگ مسجد میں ۔ اس دن سے آج تک شاید تین چار سال کا عرصہ ہوتا ہے وہ لوگ مسجد میں عیدین ادا کرتے ہیں اور اکثریت عید گاہ میں کیا میاں لوگوں کا یہ عمل ٹھیک ہے۔
الجواب: (1) جائز ہے واللہ تعالیٰ اعلم خاکسار شیخ محمد حنیف اڑیسہ (۲) نسبندی کرانے والا حرام کا مرتکب ہوا ، اس پر تو بہ لازم ہے بعد تو بہ اسے امام بنا سکتے ہیں جبکہ لائق امامت ہو اور کوئی مانع شرعی نہ ہو اور اس کے ہاتھ کا ذبیحہ بھی جائز ہے جبکہ شرعی طور پر ذبیح کرے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) گاؤں میں عیدین و جمعہ صحیح نہیں۔ در مختار میں ہے: "صلاة العيد فى القرى تكره تحريما: أى لأنه اشتغال بما لا يصح لأن المصر شرط الصحة (1) مگر جہاں پہلے سے جمعہ وعیدین عوام پڑھتے آئے ہوں وہاں انہیں منع نہیں کیا جاتا کہ آخر خدا کا نام لیتے ہیں جو کسی مذہب پر صحیح آتا ہے اور نی جگہ جمعہ وعیدین قائم کرنا جائز نہیں۔ لہذا عید گاہ ہی میں عیدین پڑھیں اور اختلاف سے بچیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله