طوطا کھانے کا حکم اور اعداد ۷۸۶ اور ۹۲ کا مطلب
کیا فرماتے ہیں علمائے دین مندرجہ ذیل مسائل میں کہ (۱) طوطا (پرندہ) کیسا ہے؟ کھایا جا سکتا ہے یا نہیں ؟ یعنی طوطا حرام ہے یا حلال؟ (۲) سات سو چھیاسی بے بانوے کے معنی کیا ہوا؟ (۳) کتاب نماز حنفی مکمل مدلل ہے یا نہیں ؟ فقط لمستلقى بعلی اکبر، درس اصلاح المسلمین
الجواب: (1) طوطا امام شافعی کے نزدیک حرام ہے، ہمارے ائمہ نے اس کے متعلق کچھ تصریح نہ فرمائی ، اصل مذہب اس کے حلال ہونے کا مقتضی ہے کہ وہ پنجہ سے شکار نہیں کرتا اور ایسا پرندہ ہمارے مذہب میں حلال ہے۔ درمختار میں ہے: ولا يحل ذو ناب یصید بنا به او مخلب يصيد بمخلبه ای ظفره (۲) مگر طوطا کھایا نہیں جاتا ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب (۲) ۷۸۶ کا مطلب ہے بسم اللہ الرحمن الرحیم ، اور ۹۲ کا مطلب ہے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ، جو اعداد میں لکھا جاتا ہے تا کہ حروف کی بے ادبی نہ ہو ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) ہماری نظر سے یہ کتاب نہ گزری، کتب خانوں میں دریافت کی جائے ۔ فقط ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ صح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی