فوٹو گرافی کی حرمت اور داڑھی منڈے، بے پردہ عورت کے شوہر اور بد زبان کی امامت کا حکم
محترم المقام قبلہ مفتی صاحب ! السلام علیکم التماس خدمت اقدس میں ہے کہ کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس بارے میں کہ (1) میرا ایک بھائی فوٹوگرافر ہے، شادی شدہ ہے، وہ فوٹو بناتا ہے کیمرے سے، اب میں کچھ دین سے واقف ہو گیا ہوں، میں اُن سے منع کرتا ہوں کہ آپ یہ کام ختم کر دو، یہ کام حرام ہے تو وہ کہتے ہیں کہ میں کیسے مان لوں کہ فوٹو گرافی حرام ہے؟ اس لئے آپ ثبوت کے ساتھ جواب جلد سے جلد عنایت فرمائیں کہ یہ کام جائز ہے یا حرام ہے؟ (۲) زید امامت کرتا ہے لیکن اس کی بیوی بے پردہ ہے، ایسے امام کی اقتدا جائز ہے یا نہیں؟ (۳) بکر امامت کرتا ہے داڑھی منڈاتا ہے، ماں کی شان میں گندے الفاظ بکتا ہے، کیا ایسے شخص کے پیچھے نماز ہو جائے گی ؟ جواب جلد عنایت فرمائیں، بڑا کرم ہو گا۔ فقط المستفتی : منورخاں قادری
الجواب: (1) فوٹو گرافی بلاشبہہ حرام ہے جبکہ جاندار کی تصویر کھینچے۔ حضور فرماتے ہیں: ان اشد الناس عذابا عند الله المصورون (۱) قیامت کے دن سب سے زیادہ عذاب مصوروں کو ہوگا۔ رواہ الائمة والشیخان عن عبداللہ بن مسعود عن ام المومنین عائشة الصديقة نیز حدیث میں ہے: ان اصحاب هذه الصور يعذبون يوم القيامة يقال لهم احيواما خلقتم (٢) (۱) صحیح البخاری، باب عذاب المصورين يوم القيامة، ج ۲، ص ۸۸۰ ، مجلس بركات (۲) صحیح البخاری، باب من كره القعود على الصور، ج ۲، ص ۸۸۱ مجلس برکات (۱) مصورون کو قیامت کے دن عذاب دیا جائے گا، ان سے کہا جائے گا زندہ کرو اپنی ساختہ تصویریں۔ وھو اعلم (۲) زیدا گرحتی المقدور اپنی بیوی کو باز نہیں رکھتا تو اس کی امامت مکروہ تحریمی ہے۔ والمولیٰ تعالیٰ اعلم (۳) ایسا شخص سخت گنہ گار ہے، اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی ہے۔ والمولیٰ تعالیٰ اعلم مسئلہ ۱۲۰ فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲۹ ذوالحجہ ۱۳۹۱ھ/ ۱۵ فروری ۱۹۷۲ء صح الجواب ۔ والمولیٰ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی دارالافتاء منظر اسلام،سوداگران، بریلی شریف