فجر کے بعد سلام پڑھنا، محفل نعت کا انعقاد اور لاؤڈ اسپیکر پر خطبہ جمعہ کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ (1) روزانہ فجر کی نماز پڑھ کے سلام پڑھ لیا جائے تو کیا نا جائز ہے؟ جواب دیں۔ (۲) قریب ۹ بجے شام کو گاؤں کے کافی لوگ مدرسے میں اکٹھا ہوں، فرمائش نعت پاک سننے کی کریں تو کیا اس وقت نعت شریف درست نہیں ہے؟ جواب دیں اور جو شخص ان سب کو غلط بتائے ،شرک سمجھے تو وہ کون ہوا ؟ جواب دیں۔ (۳) جمعہ کے دن خطبہ، لاؤڈ اسپیکر سے پڑھ دیا جائے تو کیا جائز ہے؟ جواب دیں۔
الجواب: (1) جائز و مستحسن ہے، سلام بر حضور خیر الا نام علیہ الصلاۃ والسلام کبھی منع نہیں، اللہ نے سلام بھیجنے حکم دیا ہے اور وقت نہیں باندھا ہے تو ہمیں کسی وقت کی تحدید اور کسی وقت منع کرنے کا حق نہیں پہنچتا۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) درست ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم ۔ غلط کہنے والا اور شرک بتانے والا گمراہ بے دین وہابی ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) جائز ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صبح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی ۲۵ / جمادی الآخره ۱۴۰۷ھ