کسی پر الزام لگانا سخت عظیم خطا ہے اور کلمات کفر کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ (۱) زید پر بکر نے الزام لگایا کہ تمہارا ہندہ سے ناجائز تعلق ہے، بکر نے زید سے کہا اس کا تمہارے پاس کیا ثبوت ہے؟ تو زید نے کہا تم اس کے گھر کے سامنے جو گرا ہوا پیٹر ہے، اس پر بیٹھے تھے تمہارا رخ اس کے گھر کی طرف تھا۔ اس طرح سے بکر کے اوپر زید کا الزام لگانا کیسا ہے؟ اور زید پر شریعت کا کیا حکم ہے؟ (۲) زید نے اپنے مکان پر ایک پردیسی کو رکھا، کچھ دن بعد زید نے اس پر دیسی کو بے وجہ شرعی نکال دیا ، اس وقت پردیسی کی بیوی بیمار تھی تو چند لوگوں نے زید سے کہا، مسلمانوں کا ایسا شیوہ نہیں،اس پر زید نے کہا میں کا فر ہی سہی ، اور پر دیسی مسجد کا امام تھا اور اہلسنت صحیح العقیدہ تھا۔ زید کا مسجد کے امام کے ساتھ ایسا سلوک کرنا از روئے شرع کیسا ہے؟ ایسا نقطہ استعمال کرنا میں کا فرہی سہی شریعت کے حکم سے آگاہ فرمائیں۔
الجواب: (1) زیدا گر ثبوت شرعیہ سے کہتا ہے جو سوال میں تحریر ہوا تو اس پر الزام نہیں اور اگر ثبوت شرعی نہیں تو وہ سخت گنہ گار ہے، وہ دلیل نہیں جو سوال میں درج ہوئی۔ واللہ تعالی اعلم (۲) زید کا قول سخت عظیم خطا ہے، اس پر تو بہ ضرور ہے اور تجدید ایمان بھی کرے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی دارالافتاءمنظر اسلام، بریلی شریف ۲۷ جمادی الاولی ۱۴۰۱ھ