امامت، زکوۃ، فطرہ، اور دیگر متفرق فقہی مسائل کے جوابات
(۸) ایک روز کی بات کہ مغرب و عصر کے درمیان کا وقت تھا ، آپ نے مغرب کی اذان پڑھ دی بادل کا کہیں نام نہیں یہ بھی بتائیں اور نماز پڑھ دی اور ایک گاؤں میں اسی مولا نا کوروکا اور بہت سے لوگ ان کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے ۔ آپ کا اس کے بارے میں کیا خیال ہے؟ (۹) گاؤں میں ۱۰۰ / آدمیوں میں ۷۵ /آدمی نماز نہیں پڑھتے ہیں، اس کے بارے میں کیا خیال ہے؟ مندرجہ بالا کا جواب مدلل و مفصل عنایت فرمائیں ۔ عین کرم ہوگا ! المستفتیان : فیاض خاں، نبی احمد سکندر ، اقرار علی محمد حسین ، بھورا جمیل احمد ، انور علی موضع گوگھاٹ ،ضلع نینی تال
الجواب: (1) امام مذکور کو ایسا نہ کرنا چاہئے بلکہ نماز جنازہ کے لئے وقت نکال کر اس میں شرکت کرنا چاہئے اور نماز پڑھانا چاہئے اور اگر عدیم الفرصتی کا عذر جھوٹا ہونا ثابت ہوتو امام سخت ملزم ہے اور امامت کے لائق نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) اگر واقعی فرصت نہیں تو الزام نہیں ورنہ سخت گنہ گار ہے کہ جھوٹ کا مرتکب ہوتا ہے اور اگر یہ بہانہ بر بنائے فساد وعقیدہ وہابیت ہو تو اس کی اقتدا اور اس کی صحبت سے شدید احتر از فرض ہے ۔ اللہ تعالیٰ اعلم (۳) اگر وہ صاحب نصاب ہے تو اسے زکوۃ و فطرہ عشر وغیرہ صدقات واجبہ لینا حلال نہیں بلکہ اسے زکوۃ فطرہ ادا کرنا واجب ہے اور صدقات نافلہ بے مانگے لینا جائز ہے۔ اور اگر صاحب نصاب نہیں مگر بقدر کفایت کما سکتا ہے تو اسے سوال جائز نہیں، بے مانگے جو کچھ ملے، اسے حلال ہے ۔واللہ تعالیٰ اعلم (۴) اگر لوگ بخوشی دیتے ہیں تو حرج نہیں اور اگر وہ سوال کرتا ہے تو ملزم ہے جبکہ بقدر کفایت کما سکتا ہو اور وہ جوڑا وغیرہ اسے حلال نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۵) صلاة جائز و مستحسن ہے، اس سے منع نہ کرے گا مگر وہابی بے دین ۔ امام مذکور کی وہابیت اس سے ظاہر مزید اس کے عقائد کی تحقیق کی جائے اور بر تقدیر ثبوت وہابیت اس کی اقتدا میں نماز باطل محض ہے اور اس کی اقتدا سے شدید پر ہیز کریں۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۷) میت کو بے جنازہ پڑھے دفن کرنا نہ چاہئے تھا، عوام میں جو شخص لائق امامت تھا اسے امام کرتے اور ضرور ضرور پڑھ لیتے ، اس میں تاخیر جائز نہ تھی کہ نماز جنازہ فرض کفایہ ہے جس میں تاخیر کی وجہ سے سب گنہ گار ہوئے ، تو بہ کریں۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۸) وقت سے پہلے اذان دینا اور نماز پڑھنا حرام ہے اور فرض اس طرح سر سے نہ اترا، اس نماز کا اعادہ فرض ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم (۹) وہ لوگ اشد گنہ گار مستوجب نار ہیں، تو بہ کریں اور نماز پڑھیں اور جتنی نمازیں قضا ہوئیں ، جلد ادا کریں۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۹ رذی الحجہ ۱۴۰۲ھ وَسَلَمٌ عَلَى عِبَادِهِ الَّذِينَ اصْطَفَى ط اور سلام اس کے چنے ہوئے بندوں پر۔ (۱) (۱) النمل:۵۹ / کنز الایمان كتاب السير كتاب السير