کورٹ کی ڈگری اور شادی شدہ عورت کے دوسرے نکاح کی شرعی حیثیت
کیا فرماتے ہیں علمائے اہلسنت مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ ہندہ کی شادی زید سے ہوئی، ہندہ پہلی بار زید کے گھر جا کر پندرہ بیس روز کے بعد دستور کے مطابق اپنے میکے آئی۔ میکہ میں ہندہ نے دوسرے لڑکے سے تعلقات پیدا کر لیے ہیں۔ اب ہندہ کسی بھی صورت زید کے ساتھ رہنے کے لئے تیار نہیں ہے، ہندہ اور ہندہ جس کو چاہتی ہے، یہ دونوں مل کر کورٹ میرج کر چکے ہیں۔ کورٹ نے منظور کر کے ان دونوں کو آزاد کر دیا ہے۔ زید یہ تمامی واقعات جاننے کے باوجود بھی ہندہ کو چھوڑنے یا طلاق دینے کو تیار نہیں ہے۔ اس صورت میں ہندہ کا عقد کورٹ میرج کرنے والے کے ساتھ ہوسکتا ہے یا نہیں؟ المستفتی: محمد فاروق نورالقادری، لائن بازار ضلع گوپال گنج ، بہار
الجواب: ہندہ اور وہ مرد دونوں سخت گناہ گارزانی و زانیہ حرامکار حق اللہ وحق العبد میں گرفتار ہیں، کورٹ کی آزادی کوئی چیز شرعا نہیں۔ لہذا ہندہ منکوحہ زید کا نکاح دوسرے سے حرام قطعی ہے، دونوں پر لازم ہے کہ ایک دوسرے سے علیحدہ ہو جائیں ورنہ ہر مسلمان واقف حال انہیں چھوڑ دے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله الجواب صحیح۔ واللہ تعالیٰ اعلم بہاءالمصطفیٰ قادری ۱۹؍ جمادی الآخر ۱۳۹۸ھ