محمد بن حنفیہ کی ولدیت، لقب امام اعظم اور قربانی کے جانور کے بچے کا حکم
قربانی کے جانور نے بچہ دے دیا تو اسکی قربانی اگلے سال ہو سکتی ہے؟ بحضور جناب مفتی صاحب! السلام علیکم بعده گزارش اینکه (1) محمد حنیف کیا حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا لڑکا ہے؟ اس بارے میں آپ تفصیلات تحریر کریں (۲) اور حضرت امام اعظم رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ کو امام کا خطاب کس نے دیا؟ لکھئے (۳) ہندہ نے قربانی کے لئے ایک گائے خریدی تھی ، قربانی کے قبل بچہ دے دیا۔ ہندہ نے گائے کی قربانی کر دی اور بچہ کو اگلے سال قربانی کے لئے رکھ دیا۔ کیا ہو سکتا ہے؟ پوری تفصیلات تحریر فرمائیں المستفتی: اسحاق عالم اکبری مسجد اوجھڑ میگ ضلع ناسک (مہاراشٹر )
(۱) حضرت علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ کے صاحبزادہ کا نام محمد بن حنفیہ ہے۔ یہ حضرت خولہ بنت جعفر بن قیں حنفیہ کے بیٹے ہیں اس لئے محمد بن حنفیہ کہلاتے ہیں۔ نور الابصار میں ہے: "محمد الاکبر امه من سبی هنی حنفیه اوسمها خوله بنت جعفر بن قیس الحنفیہ ( ) واللہ تعالیٰ اعلم (1) نور الابصار الباب الاول فصل في الكلام على وقعة الجمل ص ۲۴ در المعرفة، بيروت (۲) حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی امامت پر امت مسلمہ کا اجماع ہے اور آپ کو امام و مقتدا ماننے والے آپ کے مذہب مہذب کی تقلید کرنے والے بہت سارے اصحاب کشف و مجاہدہ اولیائے ملت و ائمہ طریقت ہیں۔ حضرت ابراہیم بن ادہم و حضرت شفیق بلخی و حضرت معروف کرٹی و حضرت بایزید بسطامی و حضرت فضیل بن عیاض و حضرات کرام داؤ د الطائی وابو حامد الغاف وخلف بن ایوب وعبد الله بن المبارک و وکیع بن الجراح وابو بكر وراق وغیر ہم رضی الہ تعالیٰ عنہم جمیعاً وارضاہم عنا۔ در مختار میں ہے: "وقد اتبعه على مذهبه كثير من الاولياء الكرام ممن اتصف بثبات المجاهدة وركض فى ميدان المشاهدة كابراهیم بن ادهم و شقیق البلخی و معروف الکرخی و ابی یزید البسطامی و فضیل بن عیاض و داؤد الطائی و ابی حامد اللفاف و خلف بن ایوب و عبد الله بن المباک و وکیع بن الجراح وابى بكر الوراق وغيرهم ممن لا يحصى" واللہ تعالیٰ اعلم (۳) اس بچے کو گائے کے ساتھ قربان کردینا لا زم تھا، اب کہ نہ کیا تو اسے زندہ صدقہ کر دے یعنی کسی فقیر مسلم کو دے دے۔ ہندیہ میں ہے: "ان ولدت ولداً ذبحها وولدها معها" اسی میں ہے: "اضحية خرج من بطنها ولد حى قال عامة العلماء يفعل بالولد ما يفعل بالام فان لم يذبحه حتى مضت ايام النحر يتصدق به حیا" یہاں سے ظاہر کہ سال آئندہ کی قربانی اسے ذبح کرنے سے ادا نہ ہوگی بلکہ دوسرے جانور کی قربانی لازم ہوگی اور اسے یعنی اس مذبوح کو صدقہ کرنا لازم ہوگا اور ذبح سے جس قدر قیمت میں کمی ہوئی، اس کا تاوان بھی دینا ہوگا۔ اسی ہندیہ میں ہے: كتاب الحظر والاباحة باب المتفرقت ان بقى الولد عنده حتى كبر و ذبحه للعام القابل اضحية لا يجوز وعليه اخرى لعامه الذي ضحى ويتصدق به مذبوحا مع قيمة ما نقص بالذبح والفتوى على هذا كذا في فتاوی قاضیخان () واللہ تعالیٰ اعلم ،، فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله