عالم دین کی توہین، توبہ کی قبولیت، غصب زمین اور زکوۃ و سود کے شرعی احکام
نہیں چرائی ہے پھر اس پر وہ شخص نہ مانے اور کہے کہ خداور سول کچھ نہیں ، اس کے لئے کیا حکم ہے؟ (۵) زید جو ایک عالم ہے سنی صحیح العقیدہ ہے اور امام بھی ہے اور ایک شخص جو کہ بکر ہے زید امام کے پیچھے نماز بھی پڑھتا ہے لیکن اس امام زید کو بکر مردود کے لفظ سے پکارتا ہو اور بیہودہ باتیں بکتا ہو اس کے لئے کیا حکم ہے؟ نیز اس شخص کو قسم کھلائے کہ فلاں امام فلاں مسجد میں اگر نماز پڑھائے تو میں اپنی داڑھی اور مونچھ کٹوا دوں گا اور وہ فلاں امام نماز پڑھانے لگے تو ایسی صورت میں اس شخص پر جس نے قسم کھائی اس کے لئے شریعت کا کیا حکم ہے اور اس سے میل جول رکھنا اور اس سے سلام کلام کرنا کیسا ہے؟ (۶) زید اپنے تمام گناہ صغیرہ اور گناہ کبیرہ سے بموجب حضرت مفتی اعظم ہند قبلہ کے کہنے پر علی الاعلان مسجد میں تو بہ کر لیا اور حضرت نے یہ فرمایا کہ اب وہ شخص نماز پڑھا سکتا ہے پھر زید نے توبہ کر لیا اس کے بعد حضرت کے فیصلہ اور ان کے تو بہ کرنے پر بھی جو لوگ نہ مانے وہ کیا ہیں؟ اور ان کے لئے کیا حکم ہے؟ (۷) چندلوگوں نے ایک زمین لاٹ والی مسجد کے لئے چھوڑ دی اور زید نے اس مسجد کی زمین غصب کر کے اپنا مکان بنوالیا اور مسجد کے نام سے تمام سامان لا یا اور بعد تحقیق کرنے پر معلوم ہوا کہ مسجد کی زمین میں مکان بنوالیا۔ ایسے شخص پر کیا حکم ہے؟ ان سے سلام کلام کرنا کیسا ہے؟ (۸) چند لوگ ہیں جن میں بعض لوگ کبھی نماز بھی نہیں پڑھتے ہوں حتی کہ جمعہ کی نماز بھی نہیں پڑھتے ہوں اور وہ بلا وجہ شرعی مقتدی کو ہاتھ پکڑ کر زبردستی مسجد میں نماز پڑھنے سے روکتے ہوں ایسے نماز سے روکنے والوں پر شریعت کا کیا حکم ہے؟ نیز جو شخص مال و دولت کا فی جمع کیا ہو اور اس پر زکوۃ فرض ہے اور وہ کبھی اپنے مال میں سے پوری زکوۃ ادا نہیں کرتا ہو یا ز کوۃ سے انکار کرتا ہوا ایسے لوگوں پر کیا شریعت کا حکم ہے؟ نیز جوسود پر روپیہ قرض لگا تا ہو اور اس کی کمائی کھا تا ہو اس کے لئے کیا حکم ہے؟ فقط
الجواب: المستفتی : نیابت علی، بریلی شریف (1) داڑھی منڈا فاسق معلن مردودة الشہادۃ ہے اور فاسق کی اذان شرعاً نا معتبر ہے۔ در مختار میں ہے: و جزم المصنف بعدم صحة اذان مجنون و معتوه وصبي لا يعقل، قلت: وكافر و (۱) زید کو اس فاسق سے اذان دلا نا جائز نہ تھا، اس پر تو بہ لازم ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) بے وضو اذان مکروہ ہے اگر کوئی عذر نہ تھا تو انہوں نے برا کیا۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) خلاف شرع لوگوں کو منبر پر بیٹھنا نا جائز ہے اور با وصف قدرت منع نہ کرنے والا گنہ گار اور اس کا بھی وہی حکم ہے اور جس نے یہ بکا کہ معاذ اللہ اسلام کچھ نہیں وہ اسلام سے خارج ہو گیا، تو بہ وتجدیدا ایمان کر کے پھر سے اسلام میں داخل ہو اور بیوی ہو تو تجدید نکاح بھی کرے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) تو بہ تجدید ایمان لازم اور بیوی ہو تو تجدید نکاح بھی۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۵) دونوں پر تو بہ فرض ہے اور جس نے قسم کھائی اس پر کفارہ قسم بھی ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۶) نہ مانا اگر بوجہ شرعی ہے تو ان پر الزام نہیں اور اگر بے وجہ شرعی ہے تو گناہگار ہوئے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۷) وہ غاصب ہے، تو بہ کرے اور زمین سے اپنا قبضہ ہٹائے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۸) بے نمازی اور وہ جو نماز نہ پڑھنے دے اور صاحب نصاب ہو کر ز کوۃ نہ نکالے سخت گنہ گار مستحق نار ہیں اور قرض پر زیادتی لینے کا معاملہ اگر غیر مسلم سے ہوتو سود نہیں بلکہ وہ زیادتی جائز ہے اور یہ معاملہ مسلم سے ہو تو بیشک سود ہے اور لینے والا دینے والا دونوں گنہ گار ہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم