مروجہ قوالی، امامت، گستاخ امام اہل سنت اور چمڑے کی تجارت کے بارے میں سوالات
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین کہ (1) زید پیشہ ور قوالی گاتا ہے اور ڈھولک اور ساز کے ساتھ گا تا ہے۔ اس طرح قوالی گانے والے کی قوالی کوئی سن سکتا ہے یا نہیں؟ جائز ہے یا نا جائز ؟ (۲) اور زید کالڑ کا حافظ قرآن ہے۔ امامت کر سکتا ہے یا نہیں؟ (۳) ایک گروہ کے لوگ جو کہ میلاد شریف، فاتحہ، قیام وسلام سب کرتے ہیں لیکن تبلیغی جماعت کے ساتھ سلام دکھانے میں شرکت کرتے ہیں۔ ایسے گروہ کے لوگوں کے یہاں پرسنی امام قرآن خوانی میں یا میلاد میں جاسکتا ہے یا نہیں؟ (۴) اور جو شخص امام اہلسنت احمد رضا خاں صاحب کی شان میں گستاخی کرے، اس کے لئے کیا حکم ہے؟ (۵) جانوروں، مردار کے چمڑے، کچے کی خریداری کرنے والے کی کمائی جائز ہے یا نا جائز ؟ اس کا جواب دینے کا کرم فرمائیں ۔ عین نوازش ہوگی۔ فقط
الجواب: (1) ناجائز ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم المستفتی: حافظ نذیر احمد فاشتی سنی امام جامع مسجد ، محلہ توپ خانوں، جالون (۲) وہ اگر قوالی نہیں سنتا اور اس فعل سے بیزار ہے تو امامت کے لائق ہے بشرطیکہ کوئی اور مانع شرعی نہ ہو۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) اگر وہ لوگ دیوبندیوں، تبلیغیوں کو ان کے عقائد کفریہ پر مطلع ہوتے ہوئے، انہیں مسلمان جانتے ہیں تو انہی کی طرح کا فربیدین ہیں۔ ان سے میل جول حرام اشد حرام بد کام بدانجام ہے۔ یونہی اگر انہیں مسلمان تو نہیں جانتے مگر ان سے میل رکھتے ہیں تو بھی یہی حکم ہے مگر کافر نہ ہوں گے۔ ہاں اگر امام انہیں اپنی نصیحت سے باز رکھنے کی امید رکھتا ہے تو اجازت ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) وہ بد عقیدہ ہے یا متعصب ہے۔ تو بہ صحیحہ شرعیہ لازم ہے، تو بہ نہ کرے تو لوگوں کو اس سے احتراز لازم ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۵) چرم کو بے دباغت بیچنا نا جائز ہے اور بیع باطل ہے اور اس کی ثمن حرام مگر یہ حکم جب ہے کہ مسلم سے نیچے، غیر مسلم سے جو کچھ اس کی خوشی سے بے عذر شرعی ملے وہ خالص مباح ہے۔ ہدایہ میں ہے: "لأن مالهم مباح فی دار هم فبای طریق اخذه المسلم اخذ مالا مباحا اذا لم یکن فیه غدر ") واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخاں از هری قادری غفرله صبح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی الهداية، كتاب البيوع ، باب الربا ، ج ۲، ص ۷۰، مجلس برکات