ویڈیو کیمرے کے ذریعے تصویر اور ویڈیو بنانے کے شرعی حکم اور سید مدنی میاں کی تحقیق کا محاسبہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ ویڈیو کیمرے کے ذریعہ جو تصویر میں بنائی جاتی ہیں، اس پر حرمت اور شرعی ممانعت کا حکم لگے گا کہ نہیں ؟ علمائے کرام کی تقاریر اور بیاہ شادی کے موقع پر تصاویر کا نکالنا اور ویڈیو کیسٹ پر پروگرام کو ریکارڈ کرنا یادگار کے طور پر یا علمائے کرام کی تقاریر سے تبلیغ و ہدایت کی نیت سے ویڈیو بنانا جائز ہے کہ نہیں؟
المستفتی: محمد اصحاب نبی بخش اشرفی نائب صدر جمعیه فیض الاسلام، ڈین مارگ (ہالینڈ) مذکورہ بالاسوال سے ظاہر ہوتا ہے کہ سائل ویڈیو کیمرے کی حقیقت و نوعیت سے واقف کا رنہیں ہے جبھی اس نے اس کو تصویر کشی کا آلہ سمجھ لیا ہے اور اس کے خیال میں ویڈیو کیسٹ کے فیتے میں تصویر میں ہوتی ہیں جنہیں ٹی وی کے ذریعہ دکھایا جاتا ہے۔ حالانکہ تحقیق اس کے خلاف ہے، میں نے اس سلسلے میں بذات خود ویڈیو اور ٹی وی کے مسلم و غیر مسلم ماہرین سے رابطہ قائم کیا اور معلومات حاصل کیں ۔ تحقیق کے بعد یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ویڈیو کیسٹ میں کسی طرح کی کوئی تصویر نہیں چھپتی بلکہ اس کے ذریعہ اس کے سامنے والی چیزوں کے ریز (Rays) شعاعوں ، کرنوں کو ٹیپ کر لیا جاتا ہے، جس طرح آواز کو ٹیپ کر لیا جاتا ہے، ٹیپ ہو جانے کے باوجود جس طرح آواز کی کوئی صورت نہیں ہوتی بلکہ وہ غیر مرئی ہوتی ہے، اسی طرح ان ریز (Rays) کی بھی کوئی صورت نہیں ہوتی جنہیں دیکھا جا سکے۔ المختصر ویڈیو کیمرے کا کام انہیں غیر مرئی ریز (Rays) اور آوازوں کو ٹیپ کرنا ہے۔ لہذا ان کو ان فلمی فیتوں پر قیاس کرنا صحیح نہیں جن میں با قاعدہ تصویریں چھپتی ہیں اور جو دیکھی بھی جاتی ہیں اور جنہیں پردہ سیمیں پر بڑا کر کے دکھایا جاتا ہے۔ ویڈیو کیسٹ کے ٹیپ میگنیٹک ( مقناطیسی) ہوتے ہیں جو مذکورہ ریز (Rays) ( کرنوں) کو جذب کرتے ہیں، پھر جب انہیں ٹی وی سے تعلق کیا جاتا ہے توٹی وی ان ریز (Rays) کو صورت میں بدل کر اپنے آئینہ سے ظاہر کر دیتا ہے، چونکہ یہ صورت متحرک و غیر قا ر ہوتی ہے اس لئے اس کو عام آئینوں کی صورت پر قیاس کیا جاسکتا ہے۔ جب تک آئینہ کے رو برور ہے اس میں صورت رہے گی اور ہٹ جانے کی شکل میں ختم ہو جائے گی۔ یوں ہی جب تک ویڈیو کا رابطہ ٹی وی سے رہے گا، تصویر نظر آئے گی اور رابطہ منقطع ہوتے ہی تصویر فتا ہو جائے گی ۔ رہ گئی یہ بات کہ مذکورہ رابطہ پیدا کرنے کے لئے بھی بٹن وغیرہ کو حرکت میں لایا جاتا ہے تب جا کر صورت نظر آتی ہے تو یہ ایسا ہی ہے کہ باپردہ آئینہ میں پردہ ہٹانے کے بعد ہی صورت منعکس ہوتی ہے۔ الغرض یہاں بھی انعکاس صورت کے لئے پردہ ہٹانے کا عمل ناگزیر ہے۔ ان متحرک و غیر قار تصویروں کو پردہ فلم کی متحرک وغیر قار تصویروں پر قیاس نہیں کیا جاسکتا۔ اس لئے کہ پردہ فلم کی تصویر میں در حقیقت جامد و ساکن ہوتی ہیں جن کی حرکت محض نگاہوں کا دھوکہ ہے جیسے کہ ٹرین پر چلنے والا باہر کے درختوں اور زمینوں کو پیچھے بھاگتا ہوا دیکھتا ہے ، ویسے ہی پردہ فلم پر جن جامد و غیر متحرک تصویروں کو بڑا کر کے دیکھا یا جاتا ہے ان کے غیر متحرک و جامد ہونے میں کسی کو شک نہیں ہوسکتا، ویڈیو کیسٹ کا معاملہ اس کے بالکل برخلاف ہے اس میں کسی طرح کی کوئی تصویر منعکس ہوتی ہی نہیں اور جب اس کے ریز (Rays) ٹی وی میں پہنچ کر تصویر کی شکل اختیار کرتے ہیں تو وہ متحرک و غیر قار ہوتے ہیں۔ اس لئے ٹی وی کی تصویروں کے حقیق طور پر جامد ہونے کا شبہہ تک نہیں کیا جاتا۔ اس مقام پر یہ بات بھی خالی از فائدہ نہیں کہ جن پروگراموں کو ویڈیو کیسٹ کے بغیر براہ راست ٹی وی سے نشر کیا جاتا ہے ان میں بھی یہی ہوتا ہے کہ کیمروں اور مشینوں کے ذریعہ انہیں ریز (Rays ) کوئی وی ٹاور تک پہنچادیا جاتا ہے، ٹی وی ٹاور انہیں اکٹھا کر کے ٹی وی بکس کی طرف منتقل کر دیتا ہے پھر یہی صورت ہو جاتی ہے جو ویڈیو کیسٹ کے رابطے کی صورت میں ٹی وی سے ظاہر ہوتی ہے اور سارے مناظر نظر آنے لگتے ہیں، چونکہ یہ آلات جدید ہیں اس لئے مذکورہ بالا تحقیق نہایت ضروری تھی۔ اس تحقیق کے بعد یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ویڈیو اور ٹی وی کے استعمال کرنے کا معاملہ بالکل گراموفون، ٹیپ ریکارڈ اور آئنوں کے استعمال کرنے کے معاملے کی طرح ہے، جس طرح بالاتفاق گراموفون و ٹیپ ریکارڈ سے ہر وہ بات سنی جا سکتی ہے جن کا سننا ان کے بغیر بھی جائز ہے اور جس طرح آئینے کے اندر ہر اُن چیزوں کو دیکھا جا سکتا ہے جن کا دیکھنا آئینے کے باہر بھی جائز ہے بالکل اسی طرح ویڈیو اور ٹی وی کے ذریعہ ہر ایسی چیز کو دیکھا اور سنا جا سکتا ہے جس کا دیکھنا اور سننا اس کے بغیر بھی جائز ہو۔ رہ گئے وہ امور جن کا دیکھنا سننا ناجائز وحرام ہو ویڈیو اور ٹی وی کے ذریعہ بھی ان کا سننا اور دیکھنا ناجائز وحرام ہے۔ چونکہ فلموں میں جامہ وغیر متحرک تصاویر ہی بنیاد ہیں۔ اس لئے اس کو دیکھنے اور سننے کے تعلق سے جائز و ناجائز کا مذکورہ بالا فرق نہیں کیا جا سکتا۔ ہاں اگر بالفرض کوئی ایسی فلم تیار کی جائے جس میں ایک بھی جاندار کی تصویر نہ ہو اور وہ حرام و ناجائز نغمات و حرکات سے ملوث نہ ہو تو اس کو بھی دیکھنے میں بالاتفاق مضائقہ نہیں ۔ ان تفصیلات کے بعد سائل کے سوال کو سامنے رکھتے ہوئے جواب کی صورت یہ ہوئی کہ ویڈیو کیمرے کے ذریعہ کسی طرح کی کوئی تصویر نہیں بنائی جاتی ۔ لہذا جاندار کی تصویر کشی کی حرمت اور ممانعت کے جو نصوص ہیں، اس کا اطلاق اس پر ہوتا ہی نہیں ۔ بیاہ شادی کے موقع پر وہ جائز مناظر جن کو دیکھنے اور سننے میں شرعاً کوئی مضایقہ نہیں ہو، ویڈیو اور ٹی وی کے ذریعہ بھی دیکھے اور سنے جاسکتے ہیں۔ اس صورت میں اس بات کی احتیاط ضروری ہے کہ آج کل شادی بیاہ میں بے پردگی و بے حجابی کے سبب عورتیں ہر پروگرام میں پیش پیش نظر آتی ہیں اور گاتی بجاتی بھی ہیں ۔ ویڈیو کو ان مناظر سے بچایا جائے اس لئے کہ جس طرح نامحرموں کے سامنے ان کا آنا اور نامحرموں کا ان کو دیکھنا اور ان کا گانا سننا حرام و نا جائز ہے اسی طرح ٹی وی پر بھی ان کو دیکھنے اور ان کے گانے بجانے سننے کا یہی حکم رہے گا۔ علمائے کرام کی تقاریر نیز دینی و مذہبی پروگرام کی نشر و اشاعت کے لئے ویڈیو کا استعمال بالکل جائز ہے بلکہ جن علاقوں میں کوئی گھر ٹی وی سے خالی نہ ہو اور لوگ غیر شرعی پروگرام دیکھ دیکھ کر اپنے اخلاق و کردار کو خراب کر رہے ہوں نیز ان کے بچے بھی دیکھا دیکھی اُسی روش پر چل رہے ہوں، نہایت مناسب عمل ہوگا ۔ اگر ویڈیو کے ذریعہ خالص دینی ، مذہبی، علمی ، اخلاقی پروگراموں کو گھر گھر پہنچا کر ان کے افکار و نظریات کی اصلاح اور اعمال و افعال کی درستگی کی راہ نکالی جائے اور اس کے ذریعہ تبلیغ و ہدایت اور تعلیم و اصلاح کا کام انجام دیا جائے۔ اس طرح اگر ایک طرف لوگوں کوئی وی کے صحیح استعمال سے روشناس کرایا جاسکتا ہے تو دوسری طرف عظیم تعمیری کام بھی انجام دیے جاسکتے ہیں اور وہ بھی حدود شرع میں رہ کر ۔ ههنا ظهر لي الآن ولعل الله يحدث بعد ذلک امرا والله تعالی اعلم انا الفقير الى حضرة الرب الغنى السيد محمد مدني الاشرفی الجیلانی (جانشین مخدوم الملت حضور محدث اعظم ہند علیہ الرحمۃ والرضوان) الجواب: ہوتے ہیں: ویڈیو کیسٹ کے متعلق فتوی ملاحظہ ہوا، اس فتویٰ پر چند سوالات جو خاطر فاتر میں آئے ، تحریر (1) ویڈیو کیسٹ میں اس کے سامنے والے چہروں کی شعاعوں کو کس لئے ٹیپ کیا جاتا ہے؟ (۲) وہ مقصد کہ ان شعاعوں کو صورت میں بدلنا ہے،شرعاً جائز ہے یا نا جائز ؟ (۳) بر تقدیر اول اس کے جواز پر شرع مطہر سے کیا دلیل ہے اور بر تقدیر ثانی یہ مبدا حکم میں اپنے مقصد کا تابع ہو کرنا جائز ہوگا کہ نہیں ؟ نہیں تو کیوں نہیں؟ (۴) شعاعوں کا صورت میں بدلنا فعل انسان ہے یاوہ از خودصورت میں بدل جاتی ہیں؟ تقدیر ثانی ظاہرالبطلان ہے، بر تقدیر اول یہ تصویر سازی ہے کہ نہیں؟ اگر نہیں تو کیوں؟ اور ہے تو نا جائز کیوں نہیں؟ اور عمومات نصوص سے اس طرز کی جاندار صورتوں کو کون سے مخصص نے نکال کر دوسری جاندار صورتوں سے جدا کر کے بے جان اشیاء کی صورتوں سے ملا دیا؟ (۵) اور اگر کوئی مخصص نہیں تو ظاہر ہے کہ یہ تصویر میں نہ حکما مثل تصاویر بیجان مباح مظہر میں نہ عرفاً انہیں بیجان کی تصویر کہنا رہا بلکہ عرفا ان پر بھی جاندار کی صورت کا اطلاق ہوتا ہے تو یہ کہنا کیونکر صحیح ہوگا کہ اس کو ان فلمی فیتوں پر قیاس کرنا صحیح نہیں؟ حالانکہ ساختہ انسان ہونے اور تصویر جاندار ہونے میں دونوں برابر ہیں پھر جب عمومات نصوص دونوں کو شامل تو قیاس کی کس نے ٹھہرائی ؟ (1) ہاں، اس لحاظ سے یہ تصویریں فلمی فیتوں کی تصویروں سے جدا ہیں کہ فلمی فیتوں میں جو تصویریں ہوتی ہیں وہ سامنے والی اشیاء کا عکس ہوتی ہیں اور ویڈیو کیسٹ کی تصویریں برقی لکیروں کی مدد سے ٹی وی میں بنائی جاتی ہیں جس طرح آرٹسٹ لکیریں کھینچ کر ملا دیتا ہے تو تصویر میں بن جاتی ہیں تو یہ تصویریں اشیاء متقابلہ کا عکس نہیں بلکہ ان کے مماثل تصویریں ان شعاعوں کی مدد سے ٹی وی میں بنائی جاتی ہیں مگر اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب ویڈیو کیسٹ میں کسی طرح کی کوئی تصویر نہیں چھپتی بلکہ اس کے ذریعہ اس کے سامنے والی چیزوں کے (Rays) شعاعوں کرنوں کو ٹیپ کر لیا جاتا ہے پھر جب انہیں ٹی وی سے متعلق کیا جاتا ہے تو ٹی وی ان ریز کو صورت میں بدل کر اپنے آئینہ سے ظاہر کر دیتا ہے توٹی وی کے مقابل کوئی ذوالصورۃ نہیں جس کا عکس ٹی وی کے آئینہ نے دیکھا دیا بلکہ یہی شعاعیں صورت میں بدل گئیں اور آئینہ سے صورت نظر آئی تو یہ کہنا کیونکر درست ہوگا کہ چونکہ یہ صورت متحرک و غیر قار ہوتی ہے اس لئے اس کو عام آئینوں کی صورت پر قیاس کیا جاسکتا ہے؟ حالانکہ ٹی وی کا وہ آئینہ خاص آئینہ ہے جیسا کہ ظاہر ہے جس میں شعاعوں سے تصویر بنتی بھی ہے اور بے شرط مقابلہ ذوالصورۃ نظر بھی آتی۔ (۷) کیا متحرک و غیر قارصورت بنانا مباح ہے؟ اگر ایسا ہے تو اس پر شرع مطہر سے کیا دلیل ہے؟ (۸) ساکن و جامد صورت آئینہ سے یا ٹی وی سے دکھائی جائے تو کیا وہ بوجہ متحرک و غیر قار ہونے کے جائز ہو جائے گی؟ اور اسے دیکھنا جائز ہوگا یا نہیں؟ بر تقدیر اول اس امر کی دلیل مطلوب کہ صورت ساکنہ اگر متحرک ہو جائے تو حرمت زائل ہو جاتی ہے اور وہ مباح ہو جاتی ہے۔ بر تقدیر ثانی یہ صورتیں متحرک وغیر قار ہوجانے کے باوجود ناجائز کیوں ٹھہریں گی؟ (۹) پھر اس مقصد سے ان تمام صور ساکنہ کو رکھنا مباح ہوگا تو متحرک و غیر قار کی کیا تخصیص؟ (۱۰) آبازی کے سانپ چھچھوندر وغیرہ کی تصویریں جو آگ لگنے سے پہلے سمٹی ہونے کی وجہ سے بہت چھوٹی اور غیر ظاہر ہوتی ہیں پھر آگ دیکھ کر پھیلتی اور ظاہر ہو جاتی ہیں یہ بھی بوجہ متحرک و غیر قار ہونے کے جائز ہونا چاہئے ۔ آتشبازوں کو اس دلیل سے رخصت ہاتھ آئی کہ نہیں؟ (11) جب ویڈیو کیسٹ میں کسی طرح کی تصویر نہیں چھپتی تو یقینا اس میں کسی صورت کا عکس نہیں ہوتا کہ تصویر چھپنا اور عکس اترنا ایک ہی بات ہے، اس لئے مجیب فاضل نے مکر فرمایا: ”ویڈیو کیسٹ کا معاملہ اس کے بالکل بر خلاف ہے، اس میں کسی طرح کی کوئی تصویر منعکس ہوتی ہی نہیں تو یہ کہنا کہ یہاں بھی انعکاس صورت کے لئے پردہ ہٹانے کا عمل ناگزیر ہے۔ بیان کا تضاد ہے کہ نہیں؟ (۱۲) ویڈیو کیسٹ میں کون سی صورت تھی جو منعکس نہیں ہوئی ؟ (۱۳) ان متحرک و غیر قار تصویروں کو پردہ فلم کی متحرک و غیر قار تصویروں پر قیاس نہیں کیا جاسکتا۔ آخر کیوں؟ اور یہ سوال پھر لوٹتا ہے کہ عمومات نصوص دونوں کو شامل، پھر قیاس کی کیا حاجت؟ اور متحرک وغیر قار تصویریں بنانے کی کس دلیل سے اجازت ہے؟ (۱۴) پھر یہ دلیل کہ " پر وہ فلم کی تصویریں در حقیقت جامد و ساکن ہوتی ہیں جن کی حرکت محض نگاہوں کا دھوکہ ہے ۔ محتاج بیان نہیں۔ (۱۵) اور یہ نظیر دینا کہ جیسے ٹرین پر چلنے والا باہر کے درختوں اور زمینوں کو پیچھے بھاگتا ہوا دیکھتا ہے، اس پر معروض ہے کہ اس مثال کا اس ممثل لہ پر انطباق مبرہن اور وجہ مماثلت روشن نہ کی گئی۔ بہتر ہوتا کہ اسے مبرہن و مبین کیا جاتا۔ (۱۶) کوئی کہہ سکتا ہے کہ چلتی ٹرین میں درخت و زمین پیچھے بھاگتے اس لئے نظر آتے ہیں کہ جسم کو ٹرین کی حرکت سے حرکت عارض ہوتی ہے اس لئے نگاہ غیر قار ہوتی ہے تو درخت وغیرہ جوامد متحرک نظر آتے ہیں، یہ بات فلمی فیتوں میں نہیں ۔ فافتر قا (۱۷) پہلے تو جامد و متحرک کا تفرقہ ثابت فرماتے ، بغیر اس کے تفرقہ پر بنارکھنا غیر ثابت پر بنارکھنا ہے کہ نہیں ؟ نہیں تو کیوں نہیں؟ ہے تو اس پر بنائے کا رکیا مفید؟ (۱۸) اور جبکہ جامد و محرک کی تمیز غیر ثابت تو یہ کہنے سے کیا حاصل کہ ویسے بھی پردہ فلم پر جن جامد وغیر متحرک تصویروں کو بڑا کر کے دکھایا جاتا ہے، ان کے جامد وغیر متحرک ہونے میں کسی کو شک نہیں ہوسکتا۔ پھر یہ کہنا کہ اس لئے ٹی وی کی تصویروں کے حقیقی طور پر جامد ہونے کا شبہ تک نہیں کیا جاسکتا، کیا فائدہ مند ہے کہ بنائے کا رہی کے تسلیم ہے؟ (۱۹) اس پر یہ کہنا کہ اس تحقیق کے بعد الخ اس پر معروض ہے کہ کون سی تحقیق کے بعد؟ ابھی تو وہ تفرقہ ہی ثابت نہ ہوا تو تحقیق کیا ہوئی؟ (۲۰) اور یہ جو کہا کہ ویڈیو اور ٹی وی کے استعمال کرنے کا معاملہ بالکل گراموفون اور ٹیپ ریکارڈ اور آئینوں کے استعمال کی طرح ہے اس پر گزارش ہے کہ گراموفون اور ٹیپ ریکارڈ میں اصلاً کوئی صورت چھپتی ہی نہیں تو اس سے تمثیل دے کر تطویل کلام کی کیا حاجت رہ گئی اور رہی آئینوں سے تمثیل کی بات تو عرض ہے کہ ہم پہلے گزارش کر آئے کہ یہ خاص آئینہ ہے وہیں ہم نے وجہ فرق بھی ذکر کی فتذکر ثمہ اس کے باوجودا سے عام آئینوں پر قیاس کرنا کیا معنی؟ (۲۱) قیاس کی مجتہد کو اس وقت اجازت ہے جب کسی واقعہ میں اسے نص نہ ملے ،نص کے مقابل تو مجتہد کو بھی قیاس ممنوع اور کرے تو نا مقبول تو عمومات نصوص مفیدہ تحریم کے مقابل قیاس اور وہ بھی غیر مجتہد کا کیونکر مقبول ہوگا ؟ (۲۲) یہ دعویٰ کہ ویڈیو کیمرے کے ذریعہ کسی طرح کی کوئی تصویر نہیں بنائی جاتی اور جاندار کی تصویر کشی کی حرمت اور ممانعت کے جو نصوص ہیں اس کا اطلاق اس پر ہوتا ہی نہیں ،خود مجیب فاضل کے اقرار کے خلاف ہے وہ پہلے کہہ چکے ہیں کہ ٹی وی ان ریز کو صورت میں بدل کر اپنے آئینہ سے ظاہر کر دیتا ہے، تو جاندار کی تصویر کشی کی حرمت اور مخالفت کا اطلاق اس پر کیوں نہیں ہوتا ؟ (۲۳) اور جو یہ فرمایا کہ "اگر بالفرض کوئی ایسی فلم تیار کی جائے جس میں ایک بھی جاندار کی تصویر نہ ہو اور وہ حرام و نا جائز نغمات سے ملوث نہ ہو تو اس کو بھی دیکھنے میں بالا تفاق کوئی مضایقہ نہیں“ یہ ” مضایقہ نہیں، علی الاطلاق ہے یا مقید بقیود ہے؟ بر تقدیر ثانی وہ قیود کیا ہیں؟ بر تقدیر اول اسے دیکھنے میں کوئی مصلحت دینی یا دنیوی معقول و مقبول عند الشرع نہ ہو تو بھی اسے دیکھنا جائز ہوگا پھر اس تقدیر پر لہو ولعب کی کیا تعریف ہوگی اور اس کا مصداق کیا ہوگا ؟ (۲۴) جن افعال میں لہو و لعب غالب ہو، اُن میں سبیل اطلاق منع ہے یا اطلاق جواز ؟ (۲۵) محرم و صیح قول و فعل صریح و مشتمل جب متقابل ہوں تو ترجیح کسے ہے؟ فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم شب ۵ /ربیع الاول ۱۴۰۵ھ قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی مرکزی دار الافتاء ۸۲ سوداگران، بریلی شریف