غیر مسلم حکومت کی زمین پر مسجد بنانا اور غیر مسلم بینک کے منافع کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسائل مندرجہ ذیل میں کہ (1) جو زمین غیر مسلم ممالک کی سرکاری ہوتی ہیں اور معمولی سالانہ کرایہ پر دی جاتی ہیں، آیا ایسی زمین پر مساجد، مدارس، عیدگاہ، خانقاہ اور مقابر بنائے جاسکتے ہیں یا نہیں؟ یہ زمین فی الحال دس سال کے لئے دی جاتی ہیں مگر ہر دس سال کے بعد اس کے حقوق تصرف میں توسیع کر دی جاتی ہے۔ (۲) جن ممالک میں مسلمان اقلیت میں ہیں اور وہ اپنا سرمایہ ضرورۂ غیر مسلم بینک میں رکھتے ہیں، آیا وہ بینک کا منافع اپنے کسی کام میں خرچ کر سکتے ہیں؟ مستفتی: حاجی ابراہیم علی محمد رحمت اللہ، ماریشش
الجواب: (1) نہیں کہ وہ زمین گورنمنٹ کی ملک ہے لہذاوہ زمین مسجد یا مدرسہ وغیرہ وقف کی حیثیت کی محتمل نہیں کہ مذکورہ امور پر وقف کے لئے ابتدا یہ ضروری ہے کہ زمین ملک مسلم ہو۔ پھر وہ اسے اپنی ملک اور حقوق ملک سے منفر دو جدا کر کے ان امور کے لئے قولاً یا فعلاً مخصوص کر دے اور یہاں نہ ملک مسلم ہے نہ کسی طرح تابید موجود ہے۔ البتہ نماز اور دینی تعلیم وہاں جائز ہے اور دفن اموات المسلمین بھی جائز ہے جبکہ آئندہ قبور مسلمین کی بے حرمتی کا اندیشہ نہ ہو۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) ہر جائز کام میں خرچ کرنا جائز ہے بشرطیکہ کوئی مسلم اس بینک میں شریک نہ ہو۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله