غیر مسلموں کو سود میں جوروں کے پاجامے دینے سے متعلق نامناسب کلام کا حکم
غیر مسلموں کو سود میں جو روس کے پاجامے دے آتے ہیں تو کوئی اعتراض نہیں " کہنا کیسا؟ کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ ایک بزم جس میں تقریباً بیس پچیس اشخاص موجود تھے، ان میں کچھ ایسے لوگ بھی شامل تھے جن میں دینی مسائل کی بھی کچھ واقفیت تھی، دنیوی معاملات کا تذکرہ ہوا تھا کہ اچانک خلاف طبع خلاف وضع فطری یہ کہا کہ ”میاں ہم سود کھاتے ہیں تو دنیا اعتراض کرتی ہے اور غیر مسلموں کو سود میں جوروں کے پاجامے دے آتے ہیں تو کوئی اعتراض نہیں ۔ اب دریافت طلب بات یہ ہے کہ زید نے فرمان خدا اور فرمان رسول کی جو تشنیع و تردید کی ، ایسی صورت میں زید پر شرع شریف کا کیا حکم؟ المستفتی: محمد فیاض صاحب محلہ جیا پور ،شہر کہنہ، بریلی شریف
الجواب: سوال میں مذکور فقرے ”ہم سود کھاتے ہیں، اور غیر مسلموں کو سود میں۔الخ‘ سے فرمان خدائے تعالیٰ ورسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تشنیع و تردید مستفاد نہیں ہوتی ۔ اگر واقعی اس نے فرمان خدا کی تشنیع و تردید کی ہو تو حکم بہت سخت ہے مگر وہ جملہ لکھ کر سوال کیا جائے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲۰ رذی الحجہ ۱۳۹۵ھ