نااہل اور فاسق شخص کے لیے خاندانی بنیاد پر دینی مناصب (قضا، امامت) پر فائز رہنے کا شرعی حکم
بے پرواہ، دینی مسئلوں سے کو را، دیگر نخش کاموں وغیرہ کو علی الاعلان کرتا ہے۔ زید کو مندرجہ بالا منصب خدمت اس کا خاندانی ورثہ ہے، اس کے حرکات و سکنات کو اس قصبہ کی ایک انجمن انجام دلا رہی ہے۔ ایسا شخص شرعاً کیسا ہے؟ اور اس سے دینی کام لینا کیسا ہے؟ (۲) زید تقریباً تیس سال سے پیشتر جمع بین الاختین یعنی دو بہنوں کو پہلی کی عدت کے دوران ایک کے نکاح میں دے کر شادی کیا، اس شادی کا اسے بالتفصیل مسئلہ بتا کر اس سے شادی حرام ہونا بتا کر روکا گیا اسی دن رات کو ایک درگاہ میں لے جا کر نکاح پڑھا کر جوڑے کو روانہ کیا، اس امر کے گواہ موجود ہیں، مذکور زید اس امر سے صاف انکار کرتا ہے۔ اب بھی انکار پر قائم ہے۔ اس مسئلہ پر شرعا کیا حکم ہے؟ (۳) اس قصبہ کے چند مسلمان دوسری ایک انجمن بنا کر اپنے ادارہ کی طرف سے منصب قاضی اور خطیب اور امامت اور قصاب کے جانوروں کو ذبح کرنا سب کام کرا رہے ہیں ، اس وقت سے اس قصبہ میں دو انجمن اور دو پارٹی بنی ہوئی ہیں یہ دونوں پارٹی سنی ہیں، پہلی انجمن کے مسلمان خاندانی ورثہ سے رہنے والے ملا ہی سے کام لینا دوسرے شخص کو منصب قاضی و خطیب و امامت و ذبیح کے کام دینا جرم کہتی ہے۔ دوسری انجمن کے مسلمانوں کا کہنا ہے کہ نااہل کو اس منصب پر رکھنا جرم ہے۔ آیا خاندانی ملا کو برطرف کرنا کس کا کام ہے؟ اور اس کام کے لئے تقرر کرنا کس کا کام ہے؟ ہندوستان میں رہنے والوں کے لئے شرعاً ایسے کام کے لئے کیا حکم ہے؟ (۴) زید مذکورہ نکاح پڑھانے سے انکار کرتا ہے اور بہار شریعت میں لکھا ہے کہ مرتد اپنے ارتداد سے انکار کرے تو اس کا یہ انکار ہی بمنزلہ تو بہ ہے، جب زید کا انکار تو بہ کے مقام پر رہا تو اس مندرجہ بالا منصب کے کام کرانے میں شرعاً جائز ہوئے دوسری انجمن والے اس کو برطرف کر کے دوسروں سے کام لے رہے ہیں وہ مجرم ٹھہرے اور دوسری انجمن بنا کر مسلمانوں میں دو پارٹی بنائے وہ گنہ گار بھی ہوئے ، وہ دوسری انجمن کے مسلمان شرعاً کیسے ہیں؟ مندرجہ بالا مسکلوں کو مدلل جواب سے آراستہ کریں۔ فقط والسلام عبدالقادر خاں اشرفی ، کے، ایچ قاضی خاں ، شگاؤں
الجواب: (۱، ۲) سوال میں زید کے بابت جو امور خلاف شرع تحریر ہوئے اگر وہ اس پر شرعاً ثابت ہیں تو وہ فاسق معلن ہے، اسے کسی دینی منصب پر مقرر رکھنا جائز نہیں۔ حدیث میں ہے : " من استعمل رجلا من عصابة وفيهم من هو ارضى لله منه فقد خان الله ورسوله و المومنین ) یعنی جو کسی جماعت سے کسی شخص کو کسی کام پر مقرر کرے اور ان میں وہ ہو جو اللہ کو اس سے پسندیدہ ہو تو اس نے اللہ و رسول اور مسلمانوں سے خیانت کی ۔ رواہ الحاکم عن ابن عباس رضی اللہ عنہما ۔ اور اس ناجائز عقد پر اگر شہادت شرعیہ گزر چکی تو اس کا انکار اسے کچھ مفید نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) امام جمعہ کے لئے سلطان یا نائب سلطان یا ان کا ماذون ہونا ضروری ہے اور اس کے ہوتے ہوئے عوام کا کسی کو امام جمعہ کر لینا شرعاً معتبر نہیں اور ایسے کی اقتد اجمعہ میں نادرست ہے۔ ہاں اگر وہ امام مازون ہے یا وہاں کوئی حاکم شرع نہیں تو بہ ضرورت عوام نے جس جامع شرائط امامت کو امام جمعہ کر دیا وہ امام جمعہ قرار پائے گا اور اس کی اقتدا میں جمعہ درست ہوگا۔ ہندیہ میں شرائط جمعہ کے بیان میں ہے: (ومنها) السلطان عادلا كان او جائر اهكذا فی التتارخانية ناقلا عن النصاب اومـ امره السلطان وهو الامير او القاضي او الخطباء كذا في العيني شرح الهداية حتى لا تجوز اقامتها بغير امر السلطان او امر نائبه کذا فی محیط السرخسی اسی میں ہے: ” فان لم يكن ثمه واحد منهم فاجتمع الناس على رجل يصلى بهم الجمعة جاز كذافي التهذيب (۳) یہاں سے ظاہر کہ وہ دوسرا شخص جسے دوسری انجمن نے مقرر کیا ہے، اس کے پیچھے نماز جمعہ درست و نادرست ہونے میں وہی تفصیل ہے جو اوپر گزری اور باقی امور کی انجام دہی کے لئے عوام کا اسے مقرر کر لینا مطلقا صحیح ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) پہلے گزرا کہ اگر اس کا یہ جرم شرعاً ثابت ہے تو اس کے انکار سے اسے کچھ فائدہ نہ ہوگا اور اس صورت میں دوسری انجمن والے ملزم نہیں اور اگر اس کے اوپر کوئی امر خلاف شرع شرعاً ثابت نہیں تو بے وجہ شرعی اسے ملزم ٹھہرانا اور چھوڑ دینا ضرور گناہ ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله