آیت سجدہ پر رکوع کرنے اور ریڈیو کی خبر پر روزہ رکھنے کے متعلق مسائل
تلاوت نماز میں آیت سجدہ پر امام نے عمدہ ارکوع کیا، مقتدیوں کا سجدہ ادا ہوا یا نہیں؟ کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسائل ذیل میں کہ (۱) زید قرآن کا حافظ اور ضروری مسائل سے واقف ہے، امام مسجد ہے قرآن سناتا ہے مگر جہاں آیت سجدہ آتی ہے، وہاں بجائے سجدہ کرنے کے بالالتزام رکوع کرتا ہے مگر علیحدہ سے بالقصد چودہ سجدوں کو ترک کرتا ہے تو کیا ایسے کرنے سے زید گنہگار تو نہیں ہوتا یا نماز تراویح میں تکمیل قرآن میں تو کوئی خرابی واقع نہیں ہوتی ہے؟ بحوالہ کتاب جواب مرحمت فرمایا جائے۔ (۲) خالد نے ریڈیو کی خبر پر روزہ رکھ لیا پھر چند یوم کے بعد اسی یوم شک کے لئے یوم رمضان ہونے کی تصدیق ہو گئی تو کیا خالد یوم شک میں فرض کی نیت سے روزہ رکھ کر گنہگار ہوا؟ اور اس پر تو بہ بھی لازم ہوگی یا نہیں؟ اور اس پر بعد رمضان اس یوم شنک والے روزہ کی قضالا زم ہوگی یا نہیں؟ مع حوالہ کتاب تحریر فرمایا جائے۔ بینوا توجروا نوٹ: نماز عاشورہ پر نماز چاند گہن جماعت کے ساتھ پڑھنے کا جو بعض جگہ رواج ہے وہ کس حد تک صحیح ہے؟ مستفتی: قربان علی رضوی بیسلپوری
الجواب: (۱) صورت مسئولہ میں زید اگر فوراً رکوع میں جاتے ہوئے سجدہ تلاوت کی نیت کر لیتا ہو تو اس کا سجدہ ادا ہو گیا اور وہ گنہگار بھی نہیں ہے۔ ہاں تاخیر سے گناہ ہوگا۔ مقتدیوں کا ادا نہ ہوا جبکہ نماز جہری ہو اور مقتدیوں نے نیت نہ کی ہو، اب مقتدیوں کو چاہئے کہ سلام امام کے بعد سجدہ تلاوت کرلیں اور اس کے بعد قعدہ کریں کہ وہ قعدہ جو امام کے ساتھ کیا، اب شمار نہ ہوگا۔ لہذا اگر سجدہ نہ کریں گے تو نماز نہ ہوگی اسی وجہ سے علماء نے یہ فرمایا ہے کہ امام کو اس زمانہ میں رکوع میں نیت سجدہ تلاوت کی کرنا مناسب نہیں۔ در مختار میں غنیہ سے ہے : ”ولو نواها في ركوعه ولم ينوها المؤتم لم تجزه، ويسجد اذا سلم الامام ويعيد القعدة، ولوتركها فسدت صلاته (1) رد المحتار میں ہے: ینبغی للامام ان لا ينويها في الركوع (۲) اور اسلم و بہتر صورت یہ ہے کہ تلاوت کے لئے مستقل سجدہ اصلاً نہ کرے بلکہ آیت سجدہ پڑھتے ہی معا نماز کا رکوع بجالائے اور اس میں نیت سجدہ نہ کرے پھر قومہ کے بعد فوراً نماز کے سجدہ اولیٰ میں جائے اور اس میں نیت سجدہ کر لے اس طرح امام اور مقتدی دونوں کا سجدہ بے قباحت و بے کراہت ہو جائے گا اگر چہ مقتدیوں نے کہیں نیت سجدہ تلاوت نہ کی ہو کہ سجدہ نماز جب فی الفور کیا جائے تو سجدہ تلاوت خود بخو دا دا ہوجاتا ہے اگر چہ نیت نہ ہو۔ رد المحتار میں ہے: لوركع وسجد لها اى للصلاة فوراً ناب: اى سجود المقتدى عن سجود التلاوة بلانيةتبعالسجودامامه لمامر آنفا انها تؤدى بسجود الصلوة فوراًوان لم ينو (۳) بلکہ ہمارے علماء بحالت کثرت جماعت یا اخفائے قرآت اسی طریقے کو مطلقاً افضل ٹھہراتے ہیں۔ مراقی الفلاح میں ہے: (1) (۲) (۳) و ينبغى ذلك للامام مع كثرة القوم او حال المخافتة حتى لا يؤدى الى التخليط (۲) طحطاوی میں ہے: اى ولا يجعل لهاركوعاً او سجوداً مستقلا خوف الفساد (ه) (1) الدر المخار، کتاب الصلوۃ، باب سجود التلاوة ج ۲، ص ۵۸۷ ، دار الكتب العلمية، بيروت (۲) ردالمحتار، تاب الصلوۃ، باب سجود التلاوة، ج ۲، ص ۵۸۸ ، دار الكتب العلمية، بيروت (۳) ردالمحتار، کتاب الصلوة باب سجود التلاوة، ج ۲، ص ۵۸۸ ، دار الكتب العلمية، بيروت (۴) مراقی الفلاح، ص ۱۸۵ ، کتاب الصلوة باب سجود التلاوة، المكتبة الاسلامي (۵) طحطاوی علی مراقی الفلاح، کتاب الصلوۃ، باب سجود التلاوة، ص ۴۸۶ ، دار الكتب العلمية، بيروت سیدی اعلیٰ حضرت قبلہ علیہ الرحمہ نے اعادہ فرمایا کہ آج کل مسائل شرعیہ سے جہل عام ہے تو کثرت وقلت یکساں ہے۔ لہذا یہ حکم بھی یکساں ۔ افادہ فی فتاواه فلتراجع (1) واللہ تعالیٰ اعلم (۲) خالد پر تو بہ لازم ہے کہ یوم شک کا روزہ فرض کی نیت سے رکھنا نا جائز ہے۔ حدیث میں ہے: من صام يوم الشك فقد عصى ابا القاسم صلی الله علیه و آله وسلم (۲) جو یوم شک میں روزہ سے رہا اس نے حضور کی نافرمانی کی۔ خالص نقل کی نیت سے خواص کو جائز ہے۔ قضا لازم نہیں ۔ واللہ تعالی اعلم (۱) العطايا النبوية في الفتاوى الرضوية ، ج ۳، ص ۶۵۳،۶۵۴ ، رضا اکیڈمی (۲) صحيح البخارى، كتاب الصوم، باب قول النبي صلى الله عليه وسلم "اذار أيتم الهلال فصوموا"، ج ا ، ص ۲۵۶ ، مجلس برکات