جمعہ کی نماز میں عید کا خطبہ پڑھنے کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین حسب ذیل کے بارے میں کہ آسام میں جمعہ کے روز عید کی نماز پڑھی گئی ہے۔ دو گھنٹہ کے بعد اسی مسجد میں دوسرے مولانا صاحب جمعہ کی نماز پڑھاتے ہیں اور وہی دونوں خطبے جو عید کی نماز میں پڑھے گئے تھے مولانا نے دونوں خطبے پڑھے۔ درمیان خطبہ اردو وغیرہ میں انہوں نے تقریر وغیرہ بھی نہیں فرمائی۔ ایک آدمی بول اُٹھے: یکم شوال ہے عید کا خطبہ آپ نے کیوں پڑھا؟ اس وقت تو یکم شوال کا خطبہ پڑھنا چاہئے ۔مولانا صاحب نے کہا: یہ غوث پاک کا خطبہ ہے اس میں تکبیر وغیرہ بھی تو نہیں لکھا ہے کہ اعتراض ہوتا اس میں عربی میں رمضان کے فضائل اور شوال المکرم کے چھ روزے وغیرہ کے بارے میں بہت سی باتیں ہیں، ہم نے تو کوئی غلطی نہیں کی۔ ایک صاحب بہادر نے کہا: اعتراض صحیح ہے ،مولانا نے عید کے واجب خطبہ کو جمعہ میں پڑھ دیا ہے، دوسرے چندہ کے لئے دو مولوی آئے تھے انہوں نے کہا کہ مولانا صاحب نے بے وقت کی شہنائی بجائی ہے۔ دوسرے مولوی نے کہا کہ بے موقع خطبہ پڑھا گیا ہے۔ اس لئے یہاں انتشار پیدا ہوتا جارہا ہے اگر خطبہ میں خامی نہیں ہوتی تو چندہ مانگنے والے دونوں مولوی صاحب بے وقت کی شہنائی نہیں کہتے ۔ آپ تفصیل سے جواب دیں کہ خطبہ میں کیا پڑھنا اور کہاں تک پڑھنا جائز ہے؟ اور مولانا موصوف نے عید کا خطبہ پڑھ کر غلطی کی ہے یا نہیں؟ اگر غلطی نہیں ہے تو انہیں رسوا کرنے والے کے لئے بھی شریعت کا کوئی حکم ہے یا نہیں؟ بینوا تو جروا المستفتی : قمر الزماں خاں ، ساکن، نور جو لکھیم پور ، آسام
الجواب: خطبہ مذکورہ کو پڑھنے کو بے محل بتانا بلا وجہ کا اعتراض اور ایذائے امام ہے جو حرام بد کام بدانجام ہے۔ حضور سرور عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ادنی مسلم کو ایذا دینا اپنی ایذا اور ایذائے رب الا نام جل وعلا فر ما یا۔حدیث میں ہے: ”من اذى مسلما فقد اذانی و من اذانی فقد اذى الله و من اذى الله يوشك ان يأخذه“ جس نے مسلمان کو ایذا دی اس نے مجھے ایذا دی اور جس نے مجھے ایذا دی اس نے خدا کو ناراض کیا اور جس نے خدا کو ناراض کیا قریب ہے کہ اللہ اسے سزا دے۔ ہرگز شرع مطہر سے اس کی مخالفت نہیں نہ وہ بے محل ہے بلکہ برمحل ہے کہ وہ دن عید کا تھا تو اس دن عید کے متعلق اور ایام ستہ کے روزوں کے متعلق وعظ و نصیحت کرنا مناسب تھا اسے بے محل کہنا جہالت بے مزہ ہے۔ دو خطبے خفیف جو طوال مفصل کی سورہ کی مقدار پر زائد نہ ہوں مسنون ہیں۔ در مختار میں ہے: ”ویسن خطبتان خفیفتان و تکره زيادتهما على قدر سورة من طوال المفصل“ معترض پر ایسے مہمل اعتراضوں سے باز آنا لازم اور توبہ ضرور ورنہ مسجد سے روکے جانے کا مستحق ہوگا اور اگر اعتراض خبث باطن و بد مذہبی کی بنا پر ہو تو روک دینا اشد لازم ہے۔ اسی در مختار میں ہے: ”ويمنع منه وكذا كل مؤذولو بلسانه“ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از ہری قادری غفرلہ ۲۳ محرم الحرام ۱۳۹۸ھ