درود و سلام کے لئے کسی وقت کی قید نہیں !
بخدمت جناب عالی حضرت علامہ الحاج مفتی صاحب ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاته میں مؤذن ہوں، اذان پکار کے سنت ادا کرنے کے بعد صلوۃ وسلام پکارتا ہوں تو یہاں کے لوگوں کو اس سے سخت اعتراض ہے، تو ان لوگوں کو کس انداز سے سمجھایا جائے جو کہ سمجھ میں بات آجائے۔
الجواب: سائل شتی المستفاتی : عبد العلیم بهرامی ظاہر یہ ہے کہ وہ لوگ وہابی ہیں، صلوۃ و سلام پر اعتراض اور اس سے ممانعت انہیں کی عادت ہے۔ بلکہ اس فعل شنیع و داب تیج کو بڑی نیکی خیال کرتے ہیں، حالانکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے مطلق بلا قید وقت و کیفیت حضور سرور عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر درود وسلام کا حکم دیا۔ قال تعالى : يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا ) تو جس وقت بھی حضور سرور عالم علیہ السلام پر درود بھیجا جائے ، اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی تعمیل ہوگی۔ وہابیہ بے دلیل اس سے منع کرتے ہیں، ان پر لازم ہے کہ شرع مطہر میں صریح منع دکھائیں ورنہ بے جا اعتراض سے باز آئیں ۔ پھر صلاۃ رائجہ صد ہا برس سے معمول اہل اسلام ہے۔ در مختار میں ہے: "التسليم بعد الاذان حدث في ربيع سنة سبع مأة واحدى وثمانين في عشاء ليلة الاثنين، ثم يوم الجمعة، ثم بعد عشر سنين حدث في الكل الا المغرب ثم فيها مرتين، وهو بدعة حسنة (٢) تو کیا معقول ہے کہ صد ہا برس سے جس امر پر تعامل مسلمین ہو اور جملہ علماء کبار اسے مقرر رکھیں، وہ فضول و بدعت قرار پائے اور نو پیدا لوگوں کا اعتراض مقبول ومسموع ہو جائے۔ حاشا اللہ ۔ یہ نہ صرف مسلمانان عالم کو گناہ گار کہنا اور علماء دیار و امصار کو خاطی بنانا ہے بلکہ سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وصحبہ وسلم کو معاذ اللہ جھوٹا کہنا ہے کہ ان کا ارشاد ہے: ،، لاتجتمع امتى على ضلالة (۳) میری امت گمر ہی پر اکٹھی نہ ہوگی۔ تو ثابت ہے کہ ایسے امر میں منہ کھولنے والے خود ہی گمراہ ہیں۔ لہذا اُن سے اعراض کیا جائے جبکہ سمجھائے سے نہ باز آئیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲۴ شعبان المعظم ۱۴۰۰ھ