کا فر کو کسی مسلم سنی صحیح العقیدہ سے بہتر کہنا کفر ہے
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسائل ذیل میں کہ (1) ایک شعر راز الہ آبادی نے تحریر کیا ہے۔ اس پر اعتراض کرنے والوں کا کیا حکم ہے؟ وہ شعر یہ ہے: آج جاہل بھی ہیں عالم کا لبادہ اوڑھے ایسے ملاؤں سے ایمان بچائے رکھنا (۲) زید کہتا ہے کہ وہابیوں کے مقابلہ سنی دو کوڑی کے ہیں ۔ لہذا صرف یہ کمی ہے ان کے اندر سر کار کو ہم جیسے بشر کہتے ہیں اور جتنی خرافا تیں ہیں وہ سنی میں ہیں، اور شریعت کے فیصلہ کا جو قائل ہے اور کہے کہ میں گورنمنٹ کی قانونی کارروائی کو مانوں گا تو ایسے لوگوں کے اوپر شریعت مطہرہ کا کیا حکم ہے؟ اس کو قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔ فقط لمستفتی : طالب خیر محمد نہال الدین مقام و پوسٹ تیلم آنولہ، بریلی شریف
(۱) شعر مذکور صحیح ہے۔ اس پر اعتراض کی جانہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) وہابیہ اپنے کفریات کی وجہ سے کا فر ہیں اور کا فر کو کسی مسلم (سنی صحیح العقیدہ ) سے بہتر کہنا کفر ہے اور حکم شرع کو نہ مانا بھی۔ اور تو بہ وتجدید ایمان لازم ہے نیز تجدید نکاح جبکہ بیوی ہو۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی ۲۱ ذیقعده ۱۴۰۱ھ