علماء کی توہین اور داڑھی کا مذاق اڑانے والے پر کفر اور توبہ و تجدید نکاح کا حکم
سوال
(۱) کچھ لوگوں نے یہ کہا کہ لوگ اپنے گھر سے نیا نیا مسئلہ گڑھ کر نکالتے ہیں۔ (۲) اور ایک شخص نے بری طرح داڑھی کا مذاق بنایا ہے۔ ایسوں کے حق میں شریعت مطہرہ کا کیا حکم ہے؟ تحریر فرمائیں۔ المستفتی: محمد مجیب الرحمن
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
الجواب: (1) عالم کو گالی دینا اور اہانت کرنا بہت سخت ہے۔ علماء نے اس پر حکم کفر فر مایا ہے۔ اشباہ نظائر میں ہے: الاستهزاء بالعلم والعلماء كفر (1) مرتکب تو ہین علماء پر تو به تجدید ایمان و تجدید نکاح اگر بیوی والا ہو، لا زم ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) داڑھی سنت حضور علیہ السلام ہے اسکا مذاق بنانا کفر ہے۔ تو بہ وتجدید ایمان لا زم ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صبح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۱۰ · صفحہ ۳۳۱
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
بے وجہ شرعی جھگڑا کرنا حرام ہے
باب: متفرقات و مسائلِ شتیٰ
کا فر کو کسی مسلم سنی صحیح العقیدہ سے بہتر کہنا کفر ہے
باب: متفرقات و مسائلِ شتیٰ
ضروریات دین کے انکار اور تارک نماز کے متعلق شرعی احکام
باب: متفرقات و مسائلِ شتیٰ
آیت سجدہ پر رکوع کرنے اور ریڈیو کی خبر پر روزہ رکھنے کے متعلق مسائل
باب: متفرقات و مسائلِ شتیٰ
جمعہ کی نماز میں عید کا خطبہ پڑھنے کا حکم
باب: متفرقات و مسائلِ شتیٰ