بے وجہ شرعی جھگڑا کرنا حرام ہے
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مندرجہ ذیل مسائل میں کہ (۱) کسی بزرگ ہستی کے انتقال کے بعد 3 روز زیارت کے لئے کوئی چیز فاتحہ کے لئے لے جائیں تو لے جانے کے بعد وہاں پر تھوڑ از یادہ کا سوال پیدا ہو کر جھگڑا پیدا ہو۔ تو کیا اس کے لئے کوئی میعاد مقرر ہے یا نہیں؟ (۲) دو برادروں میں چھوٹا جو بھائی ہے ہر بات میں بڑے بھائی سے جھگڑتا ہے۔ سوالات کے جوابات جلد سے جلد دیں کیونکہ اس میں کشمکش چلی ہے اگر اس کا جواب نہیں آیا تو جھگڑا فساد ہونے کا اندیشہ ہے۔ اس لئے برائے مہربانی ضرور جلد خط کا جواب ان سوالوں کے
الجواب: (۳۳۵) المستفتی : نور احمد (۱) مقدار شرعی کچھ مقرر نہیں۔ اپنی حسب استطاعت جتنا ہو سکے، کریں اور بقدر کفایت حاضرین بہتر ہے اور یہاں جھگڑے کی وجہ کوئی نہیں، بے وجہ شرعی جھگڑا کرنا حرام ہے، اس سے احتراز لازم ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) بے وجہ شرعی جھگڑا کرنا حرام ہے۔ قال تعالى : {وَلا تَنَازَعُوا} () چھوٹے بھائی پر لازم ہے کہ بڑے کا ادب و احترام کرے۔ حدیث میں ہے کہ بڑے بھائی کا حق چھوٹے بھائی پر ایسا ہے جیسے باپ کا بیٹے پر۔ اور بڑے بھائی پر لازم کہ وہ چھوٹے بھائی پر شفقت کرے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ ۲۶ / رمضان المبارک ۱۳۹۶ھ لقد اصاب من اجاب۔واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی