ضروریات دین کے انکار اور تارک نماز کے متعلق شرعی احکام
(1) کیا کوئی ایمان مفصل کے کسی جز یعنی اللہ تعالیٰ یا ملائکہ یا کتب یا رسل کو نہ مانتے ہوئے بھی کامل مومن تسلیم کیا جا سکتا ہے؟ (۲) کیا نماز کو اطاعت رسول میں شمار کیا جاسکتا ہے یا نہیں؟ (۳) کیا صرف میلاد اور اسکے قیام اور پابندی میلا دہی کو مسلمان ہونے کیلئے کافی سمجھا جاسکتا ہے؟ (۴) كيا ومن يطع الرسول فقد اطاع اللہ “ کے مقاصد و مطالب و معانی و مفاہیم میں نماز شامل نہیں ہے؟ (۵) کیا عمدانماز ترک کرنا صرف گناہ ہے؟ (1) کیا آیت و من يطع الرسول فقد اطاع اللہ “ کا مطلب سمجھنے کے بعد واطیعوا اللہ و اطیعوا الرسول“ کے مطلب کو غیر ضروری سمجھا جاسکتا ہے؟ المستفق : عباس علی ، جامع مسهد اشوک نگر
الجواب: (۱) نہیں۔ یہ امور ضروریات دین سے ہیں اور ضروریات دین کا منکر کا فر ہے۔ در مختار میں ہے: ”و ان انکر بعض ما علم من الدین ضرورة كفر بها () واللہ تعالیٰ اعلم (۲) بے شک نماز فرض ہے اسے فرض جاننا ایمان ہے اور نماز پڑھنا فرض ہے اور اس کا ترک حرام بد کام بد انجام تو نماز پڑھنا رسول کی اطاعت اور نہ پڑھنا معصیت مگر کفر نہیں جبکہ فرضیت کا منکر نہ ہو بلکہ کبیرہ گناہ ہے اور مرتکب کبیرہ اہلسنت کے نزدیک کا فرنہیں اسے مسلمان نہ جاننا خوارج ومعتزلہ کی ضلالت ہے ۔ البتہ بعض سلف نے تارک صلاۃ کو کافر فرمایا اسکی وجہ یہ تھی کہ اس زمانہ میں ترک نماز کافروں کا خاصہ اور انکی پہچان تھی تو عجب نہیں کہ ان کا وہ مذہب اسی زمانہ کے ساتھ خاص ہو اس عہد میں بے نمازی عام ہیں اور نہ اس مذہب پر عمل سے ایک گروہ عظیم مسلمین کی تکفیر لازم آئے گی سنی صحیح العقیدہ کا یہ کام نہیں بلکہ وہابیہ کا کام ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) مسلمان کیلئے تمام ضروریات دین پر ایمان رکھنا لازم ہے جو ضروریات دین میں سے کسی امر کی ضروری دینی کا منکر ہے ہرگز مسلمان نہیں اگر چہ براہ تقیہ قیام وسلام ومیلا دو فاتحہ وغیر ہا معمولات اہلسنت کرتا ہو جیسے آجکل کے دیو بندی وہابی کہ ضروریات دین کے منکر ہیں اور خدا و رسول جل وعلا وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وصحبہ وسلم کے گستاخ ہیں یا ایسوں کو جنہوں نے اللہ ورسول جل وعلا وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی لکھی، چھاپی اور ضروریات دین کے منکر ہوئے اور اسی وجہ سے علمائے حرمین شریفین و مصر و شام وہند وسندھ نے انہیں ایسا کا فرفرمایا کہ جو دانستہ ان کے کفر و عذاب میں شک کرے وہ بھی کافر ہے کہ وہ انہیں مسلمان بلکہ مقتدا و معظم دینی جانتا ہے۔ ایسے لوگ اگر چہ قیام و سلام کریں ہرگز مسلمان نہیں پھر ان کا قیام و سلام وغیرہ معمولات اہلسنت کرنا محض سنیوں کو فریب دینے کیلئے ہے ورنہ یہ لوگ اپنی ضلالت کے سبب ان امور کو حرام وناجائز و بدعت سیئہ جانتے ہیں۔ یہاں سے ظاہر کہ ان معمولات اہلسنت کو حرام جاننا ضلالت و گمراہی ہے اور جو ان امور کو جائز و مستحب جانتا ہے اور جملہ ضروریات دین کو مانتا اور وہابیہ دیابنہ اور قادیانیہ اور ہر بد مذہب کو جسکی بد مذہبی حد کفر تک پہنچی ہو اس کے کفر کو کفر سمجھتا اور اسے کافر جانتا ہو وہ سنی ہے اگر چہ میلا دوغیرہ نہ کرے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) اس کا جواب پہلے گزرا۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۵) اسکی تفصیل گزری ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (1) ہرگز نہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲۴ رذی الحجہ ۱۴۰۲ھ