غیر مسلموں کا مسجد کے راستے سے گزرنا، سیر کرنا اور زمین کی تقسیم سے متعلق سوالات
کے لیے جب کوئی کام ضروری پڑ جائے جیسے کہ دکان بارش کے ایام میں ٹپک رہی ہو یا اور کوئی کام ہو تو ان پر آنے جانے کے لیے راستہ مسجد ہی سے ہے اور وہ لوگ جاتے ہیں تو ان کو منع کرنے میں بھی دقت ہے اس لیے کہ دکان کرایہ پر ہیں اور ان کو خالی بھی نہیں کراسکتے ہیں تو ایسی صورت میں کیا ہونا چاہیے۔ (۳) ہماری مسجد بہت شاندار ہے اور وسیع ہے اکثر ہندو لوگ اس کو دیکھنے آتے ہیں اس کی خوبصورتی کو دیکھتے ہیں تو ان ہندؤں کو منع کیا جائے تو کس طرح یا ان کو دیکھنے دیا جائے اور یہ ظاہر ہے کہ اگر منع بھی کیا جائے گا تو وہ لوگ جہاں تک میرا خیال ہے باز نہیں آئیں گے۔ جیسے کہ دہلی ، آگرہ، بدایوں، پہیلی بھیت وغیرہ کی جامع مسجدیں ہیں جو کہ بہت وسیع ہیں ان مسجدوں کو دیکھنے کے لیے دور دور سے بڑے بڑے ہندو، انگریز وغیرہ آتے دیکھتے ہیں تو ان کے لیے کیا حکم ہے؟ (۴) زید نے ایک قطعہ زمین بشکل کھنڈر خریدی اسی زمین میں سے آدھی زمین دینے کا وعدہ زید نے اپنے ایک عزیز سے کیا۔ اور اسی کا نام لکھوا دیا۔ ادھر زید کی جانب کے ایک پڑوسی نے جھگڑا اٹھایا کہ اس پورے پلاٹ میں سے ہمیں اپنی زمین ملنا چاہیے ادھر ہمارا جھگڑا پڑوسی سے چل اٹھا اور ادھر ہمارے عزیز نے فوراً پوری زمین سے آدھی بانٹ کر لے لی ادھر پڑوسی نے بے ایمانی سے زید کی جانب سے زمین لے لی اب زید نے اپنے عزیز سے کہا کہ تم نے تو پہلے ہی آدھی زمین بانٹ کر لی لہذا اب پھر سے بانٹو کیوں کہ اسی پورے پلاٹ میں سے پڑوسی نے بے ایمانی سے ایک طرف کی زمین لے لی ہے تو زید کے عزیز نے کہا کہ میں نہیں دونگا میں نے ادھر زمین لے لی ہے اپنے میں سے کسی کو دو تو زید نے کہا کہ بھائی اس پڑوسی نے پورے پلاٹ میں سے بے ایمانی سے زمین لے لی تمہیں تو یہ جھگڑا طے ہونے کے بعد آدھی چاہیے تھی غرضیکہ زید کے عزیز بھی انکار کرتے ہیں تو زید کے عزیز کے لیے کیا حکم ہے ان دونوں کا حکم تحریر فرمائیے اور زید کے عزیز کا کہنا کہ میں نے تو اپنی دیوار اٹھالی ہے۔ زید نے کہا کہ دیوار توڑو غرضیکہ زید کا عزیز انکار کر رہا ہے۔ المستفتی : حافظ عبدالمجید کیر آف تشکیل الرحمن سمس ز دگھیر بھر فی محله پنجابیان پیلی بھیت
(1) سننا ان پر لازم ہے جو مجلس تلاوت میں سننے کے لئے بیٹھے ہوں آنے جانے والوں کو اختیار ہے اسی طرح نمازیوں کو ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) مسجد کو راستہ بنانا نا جائز ہے دکانوں کی چھت کے لئے دکانوں میں زینہ بنایا جائے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) به قدر وسعت انہیں روکنا لازم ہے اور ممانعت میں فتنہ وفساد کا اندیشہ ہو اور اس کے دفع پر قدرت نہ ہو تو مجبور ومعذور ہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) صورت مسئولہ میں زید نے جو قطعہ زمین اپنے عزیز کو دیدیا وہ بعد قبضہ اس کی ملک ہو گیا کہ ہبہ بعد قبض تام ہو جاتا ہے اس میں زید کور جوع حلال نہیں اور اگر زید کا وہ عزیز اس کا قریبی محرم ہے تو رجوع صحیح نہیں ۔ ہاں اس صورت میں یہ ہوسکتا ہے کہ زید کا عزیز ابتدا سے قطعہ مطلوبہ ہبہ کردے۔ زید کا پڑوسی جس نے بے وجہ شرعی زید کی زمین دبائی ہے وہ ضرور ملزم ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صح الجواب ۔ والمولیٰ تعالیٰ اعلم ۲۰ ذیقعده ۱۴۰۵ھ قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی/ ۲۰/ذیقعده ۱۴۰۵ھ