فجر کے بعد بلند آواز سے کھڑے ہو کر صلاۃ و سلام پڑھنے کا شرعی حکم اور نمازیوں کو خلل پہنچنے کا مسئلہ
فجر کے بعد سلام پڑھنا از روئے شرع کیسا؟ کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں کہ فرض نماز فجر کے بعد فور اسلام کے لئے کھڑا ہو جانا اور بلند آواز سے یا نبی سلام علیک یا رسول سلام علیک پورا سلام پڑھنا کیسا ہے؟ جبکہ وہ لوگ جن کو جماعت نہیں ملی وہ مشغول ہوتے ہیں اور کچھ لوگ جماعت کے بعد تلاوت اور اور اد میں مشغول ہو جاتے ہیں ۔ایسی حالت میں کیا سب کو نماز و تلاوت واوراد چھوڑ کر سلام میں شامل ہونا چاہئے یا نہیں؟ آیا یہ کھڑے ہو کر سب کو بلند آواز سے سلام پڑھنا فرض ہے یا سنت یا مستحب؟ اور آیا یہ خصوصیت صرف نماز فجر ہی کے لئے ہے یا اور فرض نمازوں کے بعد بھی ضروری ہے؟ جبکہ نماز پڑھنے والے کے قریب بلند آواز سے تلاوت کرنے کو منع کرتے ہیں کہ نماز میں خلل واقع ہوگا اور بہت سے لوگوں کامل کر بلند آواز سے سلام پڑھنے میں نماز میں بہت زیادہ خلل واقع ہوتا ہے۔ اس سے قبل ہمارے یہاں کبھی نہیں ہوتا تھا، اب شروع کیا گیا ہے۔ جیسا شریعت کا حکم ہو، ویسا کیا جاوے۔ بینوا توجروا۔ سائل: عظیم خاں، موضع سرائے ، ڈاکخانہ سرائے اکبر پور
الجواب: حضور اکرم نور مجسم سرور عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر صلاۃ وسلام بھیجنا عمر میں ایک مرتبہ فرض ہے بحکم آیت کریمہ: إن الله و مليكتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النّبي ، يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تسليما (1) یعنی اللہ اور اسکے فرشتے درود بھیجتے ہیں نبی پر ، اے ایمان والو ! تم بھی نبی پر درودوسلام بھیجو۔ اور جب جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام نامی مجلس میں آئے تو ایک جماعت علماء نے فرمایا کہ ہر بار حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنا واجب ہے اور دوسرے گروہ علماء نے آسانی کے لئے یہ اختیار فرمایا کہ ایک مرتبہ نام اقدس سن کر درود بھیجنا واجب اور بار بار پڑھنا مستحب ہے۔ اور افادۃ الشیخ المحقق في المدارج والشامی فی ردالمحتار وغیرہما، آیت کریمہ سے جہاں فرضیت مستفاد ہوئی ، ساتھ ہی ساتھ آیت کریمہ کے حکم مطلق نے کسی وقت کی تخصیص نہ فرمائی، درود شریف کے جملہ اوقات میں مستحب ہونے کا فائدود یا تو جس وقت بھی درود شریف پڑھا جائے ، ہنگام آیت مستحب ہے ، ہر گز منع نہیں تا وقتیکہ اس وقت خصوصیت کا اعتقاد نہ ہو یعنی اس وقت پڑھا جا سکتا ہے دوسرے وقت نہیں پڑھا جاسکتا۔ عوام پر یہ گمان کرنا کہ وہ اس وقت فرض جانتے ہیں، محض بدگمانی ہے اور بدگمانی به نص قرآن حرام ۔ قرآن کریم میں ہے: اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِنَ الظَّنِ اِنَّ بَعْضَ الظَّنِ اثْمُ - الآية ) اور التزام کو اس کی دلیل ٹھہر انا وہابیہ کی جہالت ہے۔ حدیث پاک میں ہے: أحب الاعمال الى الله تعالى ادومها وان قل “(۲) اللہ کو سب سے زیادہ وہ عمل پیارا ہے جو ہمیشہ ہوا گر چہ تھوڑا ہو۔ تو التزام اعمال مستحبہ شرعاً مطلوب۔ اسی طرح صلاۃ وسلام مستحب ہے اور اس کا التزام احب و ارغب ہے، فجر میں ہو خواہ سب نمازوں میں ہو، آواز سے ہو خواہ آہستہ ہو، ہاں اتنی آواز سے پڑھیں کہ نمازیوں کو تشویش نہ ہو۔ رد المحتار میں ہے: اجمع العلماء خلفاً و سلفاً على استحباب ذكر الجماعة بالجهر في المساجد وغيرها الا ان يشوش جهرهم على نائم او مصلی او قاری (۳) مگر شرط یہ ہے کہ نمازی یا قاری وہابی نہ ہو کہ وہابی کی عبادت روا نہیں بلکہ انہیں اپنی مسجد سے باز رکھا جائے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم سائل شتی الجواب صحیح ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲۹ ؍ ربیع الاول ۱۳۹۶ھ/ ۳۱ / مارچ ۱۹۷۶ء الجواب صحیح والمجب صحیح قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی فقیر قیس محمد خاں قادری رزاقی رضوی غفرلہ القوی دار الافتاء منظر اسلام، بریلی شریف