بعذر شرعی ۱۲۰ ردنوں سے کم کا حمل گرانا جائز ہے، ایسا کرانے والے کی اقتدا چھوڑنا اس وجہ سے جائز نہیں!
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: جماعتوں کا عذر: پیش امام صاحب نے ایک سال کے اندر اپنی بیوی کے تین حمل جو کہ ایک ماہ گیارہ دن، ڈیڑھ ماہ اور دو ماہ کے تھے ، ضائع کرائے ہیں۔ اب کیا ان کے پیچھے نماز پڑھنا مناسب ہے یا نہیں؟ پیش امام صاحب کا جواب : عرصہ تین سال کا گزرا میری بیوی کو دو ماہ کا حمل ہونا معلوم تھا یعنی دو تک حیض نہیں ہوا تو میں نے اپنی بیوی کی کمزوری اور شیر خوار بچی کی صحت کا خیال کرتے ہوئے شریعت کی معلومات اور مقامی و رشتہ داروں کی صلاح مشورہ کرنے کے بعد دواؤں کے استعمال سے پیٹ کی صفائی کرالی۔ یہ جدید طریقہ عام طور پر رائج ہے اس کے بعد دوماہ تک حیض آتا رہا، تیسرے ماہ پھر حیض نہیں آیا اور پندرہ روز اور گزر گئے یعنی ڈیڑھ ماہ کا حمل ہونا معلوم ہوا تو پھر مندرجہ بالا مجبوریوں کے تحت دواؤں کا استعمال کیا گیا جس سے حیض آنا شروع ہو گیا۔ اس طرح تیسری بار پھر تقریباً دو ماہ بعد ایک ماہ سے گیارہ دن اوپر ہونے پر بھی حیض نہیں آیا۔ مطلب ایک ماہ گیارہ دن کا حمل ہو گیا تو پھر مندرجہ بالا وجوہات کی بنا پر دواؤں کا استعمال کیا گیا اور حیض آنا شروع ہو گیا۔ یہ تکلیف ایک سال کے اندر ہی اندر رہی، اس کے بعد سے حیض معمول پر آنے لگا اور اب دو سال سے ایسی کوئی شکایت نہیں ہوئی ۔ لمستفتی: عبدالغفور صاحب متولی مسجد مودھا پارا ، رائے پور (ایم پی )
بیانات ملاحظہ ہوئے۔ یہ عذر شرعی ۱۲۰ سے کم دنوں کا حمل گرانا جائز ہے،صورت مسئولہ میں امام نے یہ عذر شرعی ایسا کیا تو اس پر الزام نہیں محض اس بنا پر اس کی اقتدا چھوڑ نا جائز نہیں۔ واللہ تعالی اعلم
فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله