منکوحہ کا نکاح دوسرے مرد سے پڑھانے والے امام کی امامت اور توبہ کا حکم
منکوحہ کا نکاح دوسرے مرد سے پڑھانے والا سخت گنہگار اور نکاح خواں نے جو روپیہ لیا وہ بھی حرام ، بعد تو به و ظہور صلاح حال لائق امامت ہوگا۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: ایک امام صاحب نے ایک منکوحہ عورت کا بنا طلاق و عدت کے ایک شخص سے نکاح پڑھا دیا اور کافی روپیہ لے لیا۔ ایسے امام کے پیچھے نماز ہوسکتی ہے یا نہیں؟ اور وہ امامت کے لائق ہے؟ شریعت مطہرہ کا اس امام کے لئے کیا حکم ہے؟ از روئے شریعت جواب مرحمت ہو۔ لمستفتی : صفدر پردھان بجڑہ تحصیل سوار ضلع را مپور(یوپی)
الجواب: اگر یہ واقعہ ہے کہ اس شخص نے دانستہ منکوحہ کا نکاح دوسرے مرد سے پڑھا دیا تو وہ شخص سخت گنہگار مستوجب نار ہوا اور اس پر جو روپیہ اس نے لیا محض حرام ہے۔ اس پر فرض ہے کہ تو بہ کرے اور روپیہ واپس کرے، بعد توبہ صحیحہ جب اس کا صلاح حال ظاہر ہو جائے گا ، وہ لائق امامت ہوگا۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ ۱۱؍ ربیع الاول ۱۴۰۸ھ