قاری کے پیچھے غیر قاری کی نماز اور مخارج کے مسائل کا بیان
کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسائل ذیل میں کہ: (1) قاری کی نماز غیر قاری کے پیچھے درست ہے یا نہیں؟ (۲) جن مساجد میں امام معین ہیں، ان مساجد میں کوئی قاری یا عالم پہنچے ، مقامی ہو یا غیر مقامی ، تو ا شرع مطہرہ کا کیا حکم ہے؟ (۳) آج کل کچھ لوگوں نے ”ح ، ع ، حلق سے نکالنا سیکھ لیا ہے اور کھینچ کھینچ کر پڑھتے ہیں، انہوں نے یہ مسئلہ گڑھا رکھا ہے کہ ہم قاری ہیں ، ہماری نماز کسی کے پیچھے نہیں ہوگی۔ مسجد میں جماعت ہوتی ہے، اپنی علیحدہ پڑھتے ہیں، بعض لوگوں کو یہ کہتے سنا ہے کہ جس سے الحمد شریف کے ضاد کا مخرج ادا نہیں ہوتا، ان کے پیچھے نماز نہیں ہوتی ہے۔ لہذا شریعت مطہرہ کے حکم سے مطلع فرمائیں کہ اس موقع پر کیا حکم ہے؟ بینوا توجروا۔ لمستفتی: خاکپائے علمائے کرام حامد رضاخاں قاری رضوی عفی عنہ موضع پٹی، ڈاکخانہ امر یا ضلع پیلی بھیت ۱۱ رجب المرجب ۱۴۰۰ھ
قاری کے پیچھے غیر قاری کی نماز کا حکم ! جو شخص بقدر ما یجوز بہ الصلواة قرآت کی قدرت نہیں رکھتا اس کی اپنی نماز بھی فاسد ہے ! جامع شرائط امام مقر ر دوسرے سے اولیٰ ہے ! عالم کو مقدم کرنا انسب ہے! (1) الدر المختار، ج ۲، ص ۳۳۸، کتاب الصلوۃ، باب الامامة، دار الكتب العلمية، بيروت (1) وہ شخص جو قرآت کی اتنی مقدار پر جو صحت نماز کے لئے ضروری ہے ، قدرت نہیں رکھتا، اس کی نماز فاسد ہے اور اس کے پیچھے کسی کی نماز نہ ہوگی۔ واللہ تعالی اعلم (۲) امام معین اگر جامع شرائط امامت ہے تو وہ دوسرے سے اولیٰ ہے اگر چہ دوسرا کیسا ہی عالم ہو۔ ،، در مختار میں ہے: ”امام المسجد الراتب اولى بالامامة من غيره مطلقا (۱) ہاں امام کو چاہئے کہ عالم کو مقدم کرے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) اگر وہ لوگ ایسے شخص کے پیچھے نماز پڑھنے سے پر ہیز کرتے ہیں جو قرآت به قدر ما یجوز به الصلاة پر قادر نہیں تو درست کرتے ہیں اور اگر ہر شخص سے ( خواہ وہ صحیح خواں ہی کیوں نہ ہو) پر ہیز کرتے ہیں تو بے شک گناہ گار ہیں اور ان پر جماعت اولیٰ کے ترک کا گناہ ہے۔اور وہ جو بعض لوگوں سے سنا ہے درست ہے، بے شک جو ضاد کا مخرج ادانہ کرے، اس کی نماز فاسد۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله (1) الدر المختار، ج ۲، ص ۲۹۷، کتاب الصلوۃ، باب الامامة، دار الكتب العلمية، بيروت