تارک صلاۃ، جھوٹی گواہی دینے والے اور زکوۃ و قربانی نہ کرنے والے کی امامت کا حکم
(۱) بکر دو وقت تین وقت کی نماز پڑھاتا ہے، فجر ، عصر، مغرب ۔ اب رمضان شریف میں مقتدیوں کی تعداد زیادہ ہے تو اُن سے ظہر کی نماز کا سوال کیا گیا کیونکہ وہ مسجد کے پاس تالاب میں شکار کر رہے تھے، ظہر میں نہیں تھے، جب سوال کیا تو صاف جواب دے دیا کہ میں پابند نہیں ہوں ۔ مہربانی کر کے قرآن وحدیث سے ثبوت عنایت کریں۔ اور اس وقت بکر چار وقت کی نماز پڑھارہے ہیں۔ (۲) بکر امام ہے اور اس نے کچہری پر مقدمہ میں جھوٹی گواہی دی تو اس حالت میں بکر کے پیچھے نماز ہو سکتی ہے یا نہیں ؟ اب بکر کو کیا کرنا چاہئے ؟ اگر وہ نہ کرے تو مقتدی کیا کریں؟ (۳) بکر امام مالک نصاب ہے مگر قربانی نہیں کرتا اور زکوۃ کا پیسہ نہیں دیتا ہے تو اس حالت میں بکر کے پیچھے نماز ہو جائے گی یا نہیں؟
الجواب: المستلقی : شمشاد احمد موضع پدارتھ پور ضلع بریلی (1) بکر اگر معاذ اللہ تین وقت کی نمازیں قضا کرتا ہے اور یہ امر شرعاً ثابت و مشہور بین الناس ہے تو فاسق معلن ہے،اسے امام بنانا گناہ ، اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ کہ پڑھنی گناہ اور پھیرنی واجب ہے۔ غنیہ میں ہے: لوقدموافاسقاياثمون بناءً على ان كراهة تقديمه كراهةتحريم (1) در مختار میں ہے: کل صلاة اديت مع كراهة التحريم تجب اعادتها “(۲) یونہی اگر وہ مسجد کا امام مقرر ہے اور اس کے ذمہ پانچوں وقت کی نماز کا پڑھانا ہے اور وہ پابندی نہیں کرتا تو سخت گناہ گار ہے اور اس پر یہ کہنا کہ میں پابند نہیں ہوں ، جھوٹ کا مرتکب ہونا ہے جس سے تو بہ لازم ہے۔ اور اگر اس کے ذمہ پانچوں وقت کی امامت نہیں مگر ہنگام مطالبہ کوئی اہل امامت کا موجود نہیں تو بھی اس کا انکار شرعاً انکار الواجب ہے کہ اب وہی امامت کے لئے متعین ہے اور اگر اہل موجود ہے تو الزام نہیں ۔ ہاں ترک جماعت بے عذر شرعی اگر متفق ہو تو گناہ گار ہوگا ۔ واللہ تعالی اعلم (۲) جھوٹی گواہی دینا اشد حرام کبیرہ گناہ ہے اور اس کا مرتکب فاسق معلن ہے اور فاسق معلن کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہے کہ پڑھنی گناہ اور پھیر نی واجب ہے۔ در مختار میں ہے: كل صلاة اديت مع كراهة التحريم تجب اعادتها ) بلکہ ایسے کو امام بنانا گناہ ہے۔ غنیہ میں حجہ سے ہے: لوقدموافاسقاياثمون بناءً على ان كراهة تقديمه كراهة تحريم (۲) رد المحتار میں تنبیین الحقائق سے ہے: وبان في تقديمه للامامة تعظيمه وقد وجب عليهم اهانته شرعا (۳) واللہ تعالیٰ اعلم (۳) یہی حکم اس کا ہے جو مالک نصاب ہو کر قربانی نہ کرے یا زکاۃ نہ دے۔ بکر پر تو بہ لازم ہے۔ تو بہ کرنے کے بعد اسے امام بنا سکتے ہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۶ / رمضان المبارک ۱۳۹۶ھ صح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی