ایک کٹی ہوئی انگلی والے اور فاسق و فاجر شخص کی امامت کا شرعی حکم
سوال
(1) زید کے ہاتھ کی ایک انگلی نہیں ہے اور کانوں سے بھی بہرہ ہے، جھوٹ بولتا ہے، داڑھی کٹواتا ہے، نماز کا پابند بھی نہیں ہے، کبھی کبھی روزہ بھی چھوڑتا ہے بغیر عذر شرعی کے۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ وہ امامت کا اہل ہے یا نہیں؟
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
الجواب: (1) ایسا شخص سخت فاسق ہے، اسے امام بنانا گناہ ہے اور اس کی اقتدا میں جو نمازیں پڑھیں ، ان کا اعادہ لازم ہے۔ غنیہ میں ہے: ”لوقدموافاسقاياثمون بناء على ان كراهة تقديمه كراهة تحريم () در مختار میں ہے: ،، کل صلاة اديت مع كراهة التحريم تجب اعادتها (۲) واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ ۱۴ ؍ رمضان المبارک ۱۳۹۹ھ
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۳ · صفحہ ۵۲۳
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
فاسق معلن اور بد اخلاق امام کے پیچھے نماز کا حکم
باب: کتاب الصلوٰۃ
تارک صلاۃ، جھوٹی گواہی دینے والے اور زکوۃ و قربانی نہ کرنے والے کی امامت کا حکم
باب: کتاب الصلوٰۃ
کسی امام یا وظیفہ دار کو بے عذر شرعی دستبردار کرنا جائز نہیں!
باب: کتاب الصلوٰۃ
زنا کے مرتکب کی امامت کا حکم اور ثبوتِ زنا کے حوالے سے شرعی ہدایات
باب: کتاب الصلوٰۃ
حق امامت، سجدہ میں پاؤں کی انگلیوں کا حکم اور مسجد رضا کے نام سے متعلق نزاع کا بیان
باب: کتاب الصلوٰۃ