کسی امام یا وظیفہ دار کو بے عذر شرعی دستبردار کرنا جائز نہیں!
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ: کسی امام کو بغیر شرعی نقص کے مسجد کی امامت سے دست بردار کرنا کیسا ہے؟ جو حکم شرع ہو اس سے مفصل طور سے مطلع فرمائیں۔ المستفتی: نیاز احمد نوری محله ملوکپور، لال مسجد، بریلی
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
الجواب: ناجائز و گناہ ہے اور شرعاً معزول نہ ہوگا۔ در مختار میں ہے: لا يصح عزل صاحب وظيفة بلاجنحة “ (۱) والله تعالى اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲/ذوالقعده ۱۴۰۴ھ صح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۳ · صفحہ ۵۲۱
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
حق امامت، سجدہ میں پاؤں کی انگلیوں کا حکم اور مسجد رضا کے نام سے متعلق نزاع کا بیان
باب: کتاب الصلوٰۃ
فاسق معلن اور بد اخلاق امام کے پیچھے نماز کا حکم
باب: کتاب الصلوٰۃ
رافضیوں سے میل جول رکھنے والا فاسق و نالائق امامت ہے اور نماز کا اعادہ واجب ہے
باب: کتاب الصلوٰۃ
ایک کٹی ہوئی انگلی والے اور فاسق و فاجر شخص کی امامت کا شرعی حکم
باب: کتاب الصلوٰۃ
صرف رمضان میں داڑھی رکھنے والے اور خضاب لگانے والے کی امامت اور گالی دینے والے کا حکم
باب: کتاب الصلوٰۃ