صرف رمضان میں داڑھی رکھنے والے اور خضاب لگانے والے کی امامت اور گالی دینے والے کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین مندرجہ ذیل مسئلوں میں کہ: (1) زید ایک حافظ ہے جو مالک نصاب ہونے کی وجہ سے نماز تراویح پڑھانے کی اجرت نہیں لیتا لیکن اپنی داڑھی اسلامی اصول کے مطابق ایک مٹھی سے بھی کم رکھتا ہے۔ رمضان شریف آنے سے پیشتر رکھ لیتا ہے اور ختم ہونے کے بعد برابر کمتر واتا رہتا ہے اور اس پر خضاب کا استعمال بھی کرتا ہے۔ ایسے حافظ کے پیچھے تراویح پڑھنا کیسا ہے؟ (۲) زید نے حامد سے پوچھا، تیرا باپ تراویح کہاں پڑھتا ہے؟ اس نے بتایا فلاں مسجد میں ، تو زید نے گالی دے کر کہا، اس کی ماں کا ایسا کروں گا، اس کی بہن کا ایسا کروں گا ، چار وقت کی نماز یہاں پڑھتا ہے، افطار یہاں کرتا ہے، اور تراویح دوسری مسجد میں پڑھتا ہے، میں حامد کے باپ کو اس مسجد میں گھنے نہیں دوں گا۔ زید اس وقت روزہ کی حالت میں تھا۔ فقط والسلام المستفتى : محمد عالم العظیم نگر ضلع بریلی شریف (یوپی)
صرف رمضان میں داڑھی رکھنے والا بھی فاسق ہے ! خضاب لگانے والا بے تو بہ لائق امامت نہیں ! ایسے کو امام بنا نا گناہ اور نماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ! گالی دینے والا سخت گنگار، محق نار ہے امساجد اللہ کی ہیں، مسجد سے بے وجہ شرعی رو کنا ظلم ہے! الجواب: (۱) شخص مذکور فاسق معلن ہے، جب تک داڑھی منڈوانے سے اور خضاب لگانے سے تو بہ صحیحہ نہ کرے اور ایک مدت تک اس کا صلاح حال ظاہر نہ ہو جائے ، اسے کسی نماز میں امام بنانا گناہ ہے اور اس کے پیچھے جتنی نمازیں پڑھیں ، سب مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہو ئیں ، انہیں پھیر نالا زم۔ ”لوقدموافاسقاياثمون بناءً على ان كراهة تقديمه كراهة تحريم (1) غنیہ میں ہے: در مختار میں ہے: كل صلاة اديت مع كراهةالتحریم تجب اعادتها (۲) واللہ تعالیٰ اعلم (۲) زید بے قید سخت گنہگار، ظالم جفا کار مستحق نار ہے، اس پر تو بہ لازم ہے اور حامد سے عذر خواہی بھی۔ مسجد خدا کی ہے، قال تعالیٰ: وَ أَنَّ الْمَسْجِدَ لِلهِ (۳) مسجد سے بے وجہ شرعی کسی کو روکنا ظلم ہے۔ شہادت قرآن عظیم، قال تعالى : وَمَنْ أَظْلَمُ مَن مَّنَعَ مَسَاجِدَ الله - الآية ) واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۸ / رمضان المبارک ۱۳۹۸ھ صبح الجواب ۔ واللہ تعالی اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی (1) غنية المستملى شرح منية المصلی ، ص ۵۱۳ ، فصل فی الامامة، مطبع سهیل اکیڈمی (۲) الدر المختار، ج ۲، ص ۱۴۷ ، ۱۴۸، کتاب الصلوۃ، باب صفة الصلوة، مطبع دار الكتب العلمية، بيروت (۳) سورة الجن: ۱۸ (۴) سورة البقره - ۱۱۴