عوامی جگہ پر قضا نماز پڑھنے، غلط مسئلہ بتانے اور وقت سے پہلے جماعت کرانے سے متعلق سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: (1) زید بیسل پور سے قریب دو میل کے فاصلہ پر آکر نود یہ میں جمعہ کی نماز پڑھاتا ہے، کافی عرصہ سے زید برابر نماز جمعہ پڑھانے سے قبل دو رکعت فرض قضا کے پڑھتا ہے۔ نمازیوں نے اعتراض کیا کہ آپ تو کافی عرصہ سے نماز یہاں پڑھاتے ہیں اور ہم سب بھی کافی عرصہ سے دیکھ رہے ہیں کہ آپ برابر دو فرض قضا کے پڑھتے ہیں، اس سے تو یہ ظاہر ہوتا ہے کہ آپ صرف جمعہ کی ہی نماز پڑھتے ہیں اور کسی وقت کی نماز نہیں پڑھتے ، جب یہ بات ہے تو تمہاری نماز نہیں ہوتی ، ہم سب کی کیسے ہو جائے گی ؟ تو زید نے کہا کہ آپ کا کہنا بجا ہے ، میں برابر قضا پڑھتا ہوں مگر تمہاری نماز میں کوئی فرق نہیں آتا ہے، لہذا آپ سب کی نماز ہو جاتی ہے۔۔ ان جملوں کو سن کر نمازی زید کے خلاف ہو گئے، جب زید نے یہ ماجرا دیکھا کہ نمازی میری اس بات سے خلاف ہو گئے ہیں تو فوراً کچھ دن گزرنے کے بعد جمعہ کے دن مسجد میں نمازیوں کے روبرو یہ اعلان کیا کہ جو امام باہر سے نماز پڑھانے کے لئے آئے گا تو یہاں وہ جب تک دو رکعت نماز فرض جمعہ کی نماز پڑھانے سے قبل نہیں پڑھ لے گا ، اس وقت تک نماز جمعہ نہیں ہوگی ، یہ حدیث کا مسئلہ ہے۔ تو امام کا یہ کہنا سہی ہے یا غلط؟ (۲) جماعت کا وقت متعین ہے مگر جماعت کے وقت سے قریب پانچ منٹ پہلے ہی زید نماز پڑھا دیتا ہے۔ لہذا مقتدیوں نے کہا کہ اس طریقہ کی وجہ سے بہت سے نمازیوں کی نماز چھوٹ جاتی ہے۔ اس پر امام نے کہا کہ مجھے حق ہے، میں جتنا پہلے چاہوں گا، نماز پڑھا دوں گا۔ فقط لمستفتی: محمد حافظ اعجاز بیگ نود یه چیسل پور، بریلی شریف (یوپی)
لوگوں کے سامنے قضا نماز نہ پڑھے کہ اظہار گناہ، گناہ ہے اللہ مسئلہ بتا نا حرام ہے! جو بغیر علم فتوی دے اس پر آسمان و زمین کے فرشتے لعنت کرتے ہیں ! جماعت کے وقت سے پہلے نماز پڑھانا بُرا ہے! (1) قضا نماز لوگوں کے سامنے پڑھنا گناہ کی بات ہے، اس میں گناہ کا اظہار ہے جو خود گناہ ہے اور اس کا یہ کہنا کہ ”جب تک امام قضا نہ پڑھ لے گا ۔ الخ غلط ہے ، غلط مسئلہ بتانا حرام ہے اور لعنت انجام ہے۔ حدیث حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہے: من افتى بغير علم لعنته ملائكة السموات والارض) اس شخص پر تو بہ لازم ہے۔ واللہ تعالی اعلم (۲) اس کا یہ فعل بھی بڑا ہے جبکہ مقتدیوں کی رضا سے نہ ہو، نہ اس میں مصلحت ہو اور یہ جواب بھی غلط ہے جو اس نے دیا۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲۶/ذوالحجہ ۱۳۹۷ھ