ایک امام کا عید کی کئی جماعتیں کرانے کا حکم اور نفل پڑھنے والے کے پیچھے واجب کی نماز
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ: عید الفطر کی نماز بارش کی وجہ سے عید گاہ میں نہیں ہوئی مسجد میں جگہ کم تھی ، امام صاحب نے پہلے جتنے مسجد کے اندر آدمی تھے، ان کو نماز پڑھا دی، پھر دوبارہ اتنے آدمیوں کو انہیں امام صاحب نے پڑھا دی، پھر تیسری بار اتنے ہی آدمی ہوئے پھر انہیں امام صاحب نے اسی جگہ اسی مصلی پر نماز پڑھائی۔ قاضی صاحب نے انکار کیا، پہلی جماعت کے بعد اب دوسرا امام نماز پڑھائے کہ آپ نماز پڑھا چکے، کیا آپ اور بھی نماز پڑھا سکتے ہیں ؟ امام نے کہا: میرے ہوتے ہوئے دوسرے اور تیسرے امام کی ضرورت نہیں، یہ بھی دونوں جماعتیں میں ہی پڑھاؤں گا۔ حدیث میں ثبوت اس کا آیا ہے کہ ایک امام تین جماعتیں پڑھا سکتا ہے، وہ خاموش ہو گئے اور حدیث نہیں دکھائی۔ کیا یہ صحیح ہے؟ اب شریعت کا جو حکم ہو،صاف صاف تحریر کر دیں۔
الجواب: ہمارے مذہب میں منتقل کے پیچھے مفترض یعنی اس شخص کی اقتدا جو فرض یا واجب پڑھ رہا ہوں درست نہیں۔ اور نماز عید مذہب حنفی میں واجب ہے لہذا امام اول جب ایک جماعت کو عید کی نماز پڑھا چکا تو دوسری جماعت کی اقتدا اس کے پیچھے صحیح نہیں ۔ وعلی ہذا القیاس تیسری اور چوتھی کی اقتدا باطل ہے اور وہ لوگ ترک واجب کے گنہگار ہیں اور وہ امام بھی ان کے وبال میں گرفتار ہے ، سب پر تو بہ لازم ہے اور امام غیر مقلد معلوم ہوتا ہے، اس کے عقائد کی تحقیق کریں ۔ اگر غیر مقلد ثابت ہوا تو پہلی جماعت کی نماز بھی اصلاً صحیح نہ ہوئی۔ فتح القدیر میں ہے: "ان الصلاة خلف اهل الاهواء لاتجوز) اور جس حدیث کا وہ مدعی ہے وہ حدیث معاذ ہے جس سے اس کا مدعی ہرگز ثابت نہیں ۔ حضور علیہ السلام کے پیچھے معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نفل پڑھتے تھے اور اپنی قوم کو فرض پڑھاتے تھے، در مختار میں ہے: ولا مفترض بمتنفل لان اتحاد الصلاتين شرط عندنا وصح ان معاذاً كان يصلى مع النبی صلی اللہ تعالی علیه وسلم نفلاوبقومه فرضا(۲) رد المحتار میں ہے: وصح ان معاذاً - الخ) أى صح عند ائمتنا وترجح، و هو جواب عما استدل به الشافعى على جواز الفرض بالنفل، وهو ما في الصحيحين ((ان معاذاً كان يصلى مع رسول الله صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم عشاء الآخرة ثم يرجع الى قومه فیصلی بهم تلک الصلوة)) والجواب ان معاذاً لما شکاہ قومہ قال لہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم (( یا معاذ لا تکن فتاناً، اما ان تصلى معى واما ان تخفف على قومک)) رواہ احمد قال الحافظ ابن تیمیہ : فیہ دلالة على منع اقتداء المفترض بالمتنفل لانه يدل على انه متى صلى معه امتنعت امامته، وبالاجماع لا تمتنع امامته بصلاة النفل معه فعلم ان الذى كان يصليه مع النبي نفل -اہ نفل-اہ، وقال الامام القرطبي في المفهم: الحديث يدل على ان صلاة معاذ مع النبی صلی اللہ تعالیٰ عليه وسلم كانت نافلة وكانت صلاته بقومه هى الفريضة وتمامه في حاشية نوح افندى وفتح القدير - اه (۳) امام مذکور نے جو حدیث پیش کی ہے اس کا جواب اسی کے معتمد ومستند گر وہ غیر مقلد ابن تیمیہ سے اس عبارت میں موجود ہے، اگر وہ اہل فہم ہے تو اس عبارت کو دیکھ کر اس کا جواب سوچ لے۔ واللہ تعالیٰ اعلم
فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صبح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی