نسبندی کرانا، داڑھی منڈانا حرام ہے، انکا مرتکب فاسق ہے، اسے بے تو بہامام بنانا گناہ ہے
کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: ایک شخص ہے جس کی نسبندی ہوگئی ہے اور زبردستی نہیں بلکہ اپنی رضامندی سے کروائی ہے۔ اب وہ شخص میلادشریف پڑھتا ہے اور ایک شخص وہ ہے جو کہ داڑھی منڈاتا ہے، اس کا میلا دشریف پڑھنا کیسا ہے ؟ اور اس سے میلا دشریف پڑھوانا کیسا ہے؟ اور جس کی تسویدی ہو گئی ہے وہ شخص کبھی کبھی امامت بھی کرتا ہے، اس کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے؟ دو مہینہ کی تنخواہ کی وجہ سے نسبندی کرائی ہے۔ قرآن و حدیث سے اس کا خلاصہ جواب تحریر فرمائیں ۔ عین نوازش ہوگی۔ المستلقي : محمد شفيق عالم
الجواب: نسبندی خوشی سے کروانا اور داڑھی منڈانا حرام کام ہیں، ان امور کے مرتکب فساق ہیں، بے تو بہ انہیں منبر پر بٹھانا،امام کرنا گناہ ہے۔ تنبیین میں ہے: (1) لأن في تقديمه للامامة تعظيمه وقد وجب عليهم اهانته () واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صح الجواب ۔ والمولیٰ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی ۱۰ رذی قعدہ ۱۳۹۷ھ تبيين الحقائق شرح کنز الدقائق، ج ۱، ص ۳۴۵، کتاب الصلوة، باب الامامة والحدث في الصلوة، زکریا