ڈاکٹر کے لئے عورتوں کے ہاتھ وغیرہ چھونے کی بقدر ضرورت اجازت اور امامت کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ: زید ڈاکٹری کرتا ہے تو نبض دیکھنے کے لئے غیر محرم عورتوں کا ہاتھ دیکھنا پڑتا ہے، اور زید امامت بھی کرتا ہے تو ایک مولوی صاحب نے اس سے کہا کہ تم امامت نہیں کر سکتے کیونکہ تم غیر محرم عورتوں کا ہاتھ پکڑتے ہو۔ لہذا گزارش یہ ہے کہ مولوی صاحب کا یہ قول صحیح ہے؟ فقہ حنفی کے مطابق جواب دینے کی زحمت گوارا فرمائیں۔ المستفتی: سید معروف علی رضوی ، ساکن قصب محمد مصبح ضلع بریلی شریف (یوپی)
ڈاکٹر کے لئے عورتوں کے ہاتھ وغیرہ چھونے کی بقدر ضرورت اجازت ہے، اس کی وجہ سے امامت سے روکا نہ جائے گا، ہاں بے چھوئے ضرورت پوری ہو جائے تو اجازت نہ ہوگی!
الجواب: صورت مسئولہ میں زید کی امامت اس بنا پر مکروہ نہ ہوگی کہ یہاں عورتوں کا ہاتھ چھونا بہ ضرورت ہے اور یہ جائز ہے۔ درمختار میں ہے: وله مس ذلك أى ما حل نظره اذا اراد الشراء وان خاف شهوته للضرورة )) مگر ضرورت شرعیہ وہ ہے جس کے بغیر چارہ نہ ہو، اور اسی عذر تک اجازت ہوگی جتنے کی ضرورت ہوگی۔ لہذا اگر بغیر چھوٹے چارہ ہو تو بلاضرورت چھونا جائز نہیں۔ یونہی اگر ضرورت کسی عضو مخصوص کو (1) الدر المختار، ج ۹، ص ۵۳۱ ، كتاب الحظر والاباحة، دار الكتب العلمية، بيروت چھونے کی ہے تو اس سے زائد چھونا نا جائز ہے اور اب امامت مکروہ ہوگی ۔ عدم کراہت کا حکم اس وقت جبکہ واقعی بہ ضرورت چھونا ہو۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۰؍ جمادی الاولی ۱۳۹۸ھ