نابینا کی امامت کا جواز اور فاسق و بد عقیدہ کی امامت کا حکم
بخدمت جناب عالی حضرت علامہ الحاج مفتی صاحب ! السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ گزارش خدمت مبارکہ میں یہ ہے کہ میں نابینا ہوں اور مجھ کو داڑھی ہے ، اور دوسرے لوگ جو مسجد میں نماز پڑھنے آتے ہیں ان سبھی لوگوں کی داڑھی نہیں ہے (داڑھے منڈے) بے داڑھی والے ہیں اور وہ لوگ چاہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آپ کے پیچھے نماز نہیں ہوگی ، آپ ہم لوگوں کے پیچھے نماز پڑھیں ۔ اور انہیں لوگوں میں ایک آدمی داڑھی تو رکھتا ہے لیکن اس کا عقیدہ درست نہیں ہے۔ مستفتی: عبد الحلیم شهسرامی
الجواب: اگر آب صحیح القرآت صحیح العبارت فسق و فجور علانیہ سے متبری و مجتنب ہیں اور دوسرا کوئی اہل امامت موجود نہیں ، تو امامت کے لئے آپ ہی متعین ہیں۔ ان لوگوں کا خیال کہ نابینا کے پیچھے نماز نہ ہوگی ، غلط ہے، تو بہ کریں اور فاسق اور بدعقیدہ کو امام بنانا ہرگز جائز نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲۴ رشعبان المعظم ۱۴۰۰ھ