امام کے خلاف سازش اور مؤذن پر کفر کے الزام سے متعلق تفصیلی استفتاء
ہو جانے سے کہ پانی سے کو ئلے سے لکھا ہوا نوٹس دھل گیا، جو باقی رہا وہ مٹوا دیا گیا اور اب امام کے خلاف سازش کی کارروائی سو بھی یعنی امام کو ہٹا کر من موجی کرنے کی آزادی ہو جائے۔ چنانچہ دوسرے دن دو کرایہ دار عارضی مؤذن جو کہ امام کا اٹھارہ سال کا لڑکا ہے اور عمرو کے درمیان کچھ گفتگو ہوئی ، بحث مباحثہ ہوا جو اُن لوگوں کے تحریری بیان منسلکہ سے معلوم کیا جائے ، اس کے بعد ہی دوسری مرتبہ میں عمرو نے امام سے عارضی مؤذن یعنی ان کے لڑکے کی شکایت کی کہ آپ کے لڑکے نے قرآن شریف کی بابت ایسے لفظ کہہ ڈالے جس سے اس کا تجدید ایمان اور دوبارہ نکاح ضروری ہے اور اگر آپ نے اپنے لڑ کے سے ایسا نہ کرایا تو آپ کے پیچھے نماز درست نہیں ہے۔ امام نے جواب دیا کہ میں نے آپ کی بات سن لی لیکن آپ کی بات کی تائید نہیں کر سکتا اور میں خوب جانتا ہوں کہ آپ ایسا کیوں کہہ رہے ہیں امام کا کہنا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے کلام پاک میں ہے کہ اگر کوئی شخص تمہارے پاس آکر کسی کی برائی کرے تو بلا تصدیق لئے ہوئے اس آدمی سے مت الجھ پڑو کہ بعد میں تم کو پچھتانا پڑے۔ اب عمر و مصلیان اور اہل مجلس میں امام کے خلاف خوب پرو پیگنڈہ امام کے ہٹانے کا شروع کیا جبکہ اکثر مصلیان بچشم عمرو کی بے حیائی و گمراہی دیکھ چکے ہیں۔ ان حالات مندرجہ بالا اور مؤذن کے بیان کی روشنی میں شرعی احکامات کیا عائد ہوتے ہیں؟ (1) عمر و حجرہ کا کرایہ دار ہو کر وعدہ کی خلاف ورزی مسجد و مصلیان کی بے حرمتی کرے اور قصد اًنماز ترک کرے جبکہ دیگر افراد کے قول کے مطابق وہ عالم دین ہے اور عالم دین قوم کی اصلاح کے لئے تعلیم حاصل کرتا ہے یا قوم کو گمراہ کرنے کے لئے؟ شرعی حکم کیا عائد ہوتا ہے؟ (۲) عمرو نے سازش کے تحت بہت چالاکی سے عارضی مؤذن کو زدمیں لانے کی اور زد میں لے آکر اس کو خاموش ہونے پر مجبور کیا جبکہ عربی مدرسہ کے بچوں کو نماز ، روزہ، فاتحہ، کلمے، ضروری دعائیں یاد کراتا سمجھا تا اور قرآن پاک کی تعلیم دیتا ہے۔ لہذا مؤذن پر کیا شرعی حکم عائد ہوتا ہے؟ (۳) عارضی مؤذن کی آڑ لے کر امام کو ہٹانے کی سازش اور پروپیگنڈہ ہوتے ہوئے امام پر کیا شرعی حکم عائد ہوتا ہے؟ المستفتی: فیاض حسین (بقلم خود ) بازار بکن تشنج ، کانپور، ۱۳؍ رجب المرجب ۱۳۹۷ھ
(۱، ۲، ۳) صورت مسئولہ میں اگر فی الواقع عمرو کے یہ افعال شرعاً ثابت ہیں تو بہت سخت گنہگار ظالم جفا کارحق اللہ وحق العبد میں گرفتار ہے اور جو واقف حال اس کا شریک و معاون ہو، وہ اسی کی رسی میں گرفتار ہے۔ اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہے کہ پڑھنی گناہ اور پھیر نی واجب ہے۔ غنیہ میں ہے: "لوقدموافاسقاياثمون بناءً على ان كراهة تقديمه كراهة تحريم (1) در مختار میں ہے: ،، كل صلاة اديت مع كراهة التحريم تجب اعادتها (۲) واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۹ ؍ رجب المرجب ۱۳۹۷ھ