داڑھی قدر قبضہ سے کم رکھنے والے اور شافعی امام کے پیچھے نماز کا شرعی حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین خصوصا حضور مفتی اعظم ہند اس مسئلہ کے بابت کہ: امام شافعی کے ماننے والے اور زور سے آمین کہنے والے امام کہ جن کی داڑھی چھوٹی ہے یعنی کہ نہیں کے برابر ہے، ان کے پیچھے نماز پڑھ سکتے ہیں یا نہیں ؟ اور جمعہ اور عیدین کی نماز کس طرح ادا کریں جب کہ عرب ممالک میں میرا ایک سال کا مسکن ہے۔ جواب بحکم شرع مفصل مہر اور ثبوت کے ساتھ ارسال کریں۔ فقط
داڑھی قدر قبضہ سے کم کرنا حرام ہے، قبضہ بھر داڑھی سنت ہے ! حرام کا مرتکب فاسق معلن ہے اور فاسق لائق امامت نہیں، اس کے پیچھے پڑھی گئی نمازیں واجب الاعادہ ہیں ! جمعہ کے لئے اگر غیر فاسق امام نہ ملے تو فاسق کی اقتدا کی اجازت ہے ابد مذہب کی اقتدا جائز نہیں! الجواب: استنی : پین خان قادری نوری مصطفوی ، ملک اردن داڑھی منڈانا یا حد شرع ( کہ قدر قبضہ ہے ) سے کم کر انا حرام ہے۔ در مختار میں ہے: وو يحرم على الرجل قطع لحيته (1) اسی میں ہے: و, والسنة فيها القبضة (٢) اسی میں ہے: اما الأخذ منها وهى دون ذلك كما يفعله بعض المغاربة و مخنثة الرجال فلم يبحه احدو أخذ كلها فعليهود الهندومجوس الأعاجم (1) اور اس کا مرتکب فاسق معلن ہے اور فاسق معلن کو امام بنانا گناہ ہے۔ غنیہ میں ہے: ،، لوقدموا فاسقاياثمون بناءً على ان كراهة تقديمه كراهة تحريم (۲) اور اس کی اقتدا مکروہ تحریمی اور نماز واجب الاعادہ۔ در مختار میں ہے: ،، كل صلاة اديت مع كراهة التحريم تجب اعادتها (۳) جمعہ وعیدین میں جبکہ دوسرا امام با شرع کہیں نہ ملے تو اس غیر متشرع کی اقتدا میں حرج نہیں مگر یہ حکم اس وقت ہے جبکہ امام سنی صحیح العقیدہ ہو اور اگر وہابی غیر مقلد یا کوئی بد مذہب ہو تو اس کی اقتدا ہرگز جائز نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۴ ر رمضان المبارک ۱۴۰۰ھ