بیماری کی وجہ سے امام کی واپسی میں تاخیر کو وعدہ خلافی قرار دے کر اقتدا سے باز رہنے کا حکم
خراب ہوگئی ، مکان جاتے وقت کچھ سنبھل گئی ، مکان پہ جا کے طبیعت کافی ٹھیک ہو گئی ، چھٹی پوری ہونے سے پہلے پھر طبیعت کافی خراب ہوگئی جس کی وجہ سے امام صاحب اپنے وقت پر نہ پہنچ سکے اور خطوط ذمہ دارلوگوں کو برابر لکھتے رہے کہ میں فلاں تاریخ کو آرہا ہوں، فلاں تاریخ کو آرہا ہوں اور وعدہ پر نہیں پہنچتے تھے اس وجہ سے کہ طبیعت کچھ سنبھل جاتی تھی تو امید کے پیش نظر امام صاحب لکھ دیتے تھے کہ میں ان شاء اللہ فلاں تاریخ کو پہنچنے کی کوشش کروں گا لیکن تاریخ متعینہ سے پہلے طبیعت زیادہ خراب ہو جاتی اور امام صاحب سفر انتہائی مجبور ہو کر کینسل کر دیتے، وقت پر نہ پہنچنا یہ سب انتہائی مجبوری کے تحت ہوا، اب اس بات کو ذمہ دار لوگوں میں سے ایک دو اشخاص نے وعدہ خلافی پرمحمول کر لیا اور کہہ دیا کہ ایسے امام کے پیچھے نماز پڑھنا درست نہیں۔ لہذا آپ امام صاحب کی مجبوریوں کو سامنے رکھتے ہوئے جواب سے نوازیں۔ کیا واقعی امام کے پیچھے نماز نہیں ہوگی؟ جبکہ کمیٹی والوں نے میٹنگ میں پاس کر کے امام صاحب کو لکھا تھا جب تک آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں ہو جاتی اس وقت تک آپ مکان ہی پہ علاج کروائیے ، جب مکمل صحت یاب ہو جائے گا تو آئیے گا اور امامت کے فرائض انجام دیجئے گا، آپ کی عدم موجودگی میں امامت عارضی طور پر کوئی امام کرے گا۔ اب امام صاحب آگئے ، ان کے پیچھے شہر کے تمامی لوگ نماز پڑھتے ہیں سوائے چند آدمیوں کے ۔حضور والا سے گزاش ہے کہ بہت جلد جواب بھیج دیں۔ فقط والسلام
الجواب: المستفتی: بسم الله کیراف بڑی مسجد، ہوگی-712125 فی الواقع اگر امام کے دروغ پر کوئی دلیل شرعی نہیں تو اس کی بات پر اعتما دلازم ہے اور بے وجہ شرعی اسے وعدہ خلاف گرداننا اور اس کی اقتدا سے باز رہنا گناہ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صبح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی ۱۹/ذیقعده ۱۴۰۲ھ