غیر شادی شدہ شخص کی امامت کا شرعی حکم کیا ہے؟
سوال
محترم جناب مفتی صاحب! السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاته ۱۸ ؍ ربیع الاول ۱۴۰۴ھ بعد سلام کے عرض ہے کہ میں آپ کو ایک تکلیف دینا چاہتا ہوں، امید کہ آپ اپنے کثیر مشاغل کے باوجود مجھ پر کرم فرما کر جواب سے نوازیں گے ۔ عین نوازش ہوگی۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس امر میں جو حسب ذیل ہے: غیر شادی شدہ کے پیچھے نماز جائز ہے کہ نہیں ؟ زید بے وطن، بے چارہ و بے بس ہے اور بے گھر بھی ہے۔ ایسی صورت میں جبکہ زید غیر شادی شدہ ہے، کیا زید کے پیچھے نماز جائز ہوگی کہ نہیں؟
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
الجواب: جائز ہے جبکہ لائق امامت ہو۔ واللہ تعالیٰ اعلم شبیر بکڈ پو ایم مظہر ٹولہ،صاحب گنج ،سنتھان پرگنہ فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صح الجواب ۔ والمولیٰ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی ۱۲، صفر المظفر، ۱۳۹۸ھ
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۳ · صفحہ ۴۹۵
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
شراب پلانے اور بدکاری کرانے والے فاسق کی امامت اور اس کی دعوت کا حکم
باب: کتاب الصلوٰۃ
داڑھی قدر قبضہ سے کم رکھنے والے اور شافعی امام کے پیچھے نماز کا شرعی حکم
باب: کتاب الصلوٰۃ
سنیما دیکھنے اور داڑھی منڈانے والے فاسق کی امامت اور نماز کا حکم
باب: کتاب الصلوٰۃ
بیماری کی وجہ سے امام کی واپسی میں تاخیر کو وعدہ خلافی قرار دے کر اقتدا سے باز رہنے کا حکم
باب: کتاب الصلوٰۃ
داڑھی منڈانا حرام اور مشابہت کفار ہے، داڑھی منڈانے والے کی امامت و اذان کا حکم
باب: کتاب الصلوٰۃ