داڑھی منڈانا حرام اور مشابہت کفار ہے، داڑھی منڈانے والے کی امامت و اذان کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ: داڑھی کتروانے والے اور منڈانے والے سے اذان واقامت پڑھوانا کیسا ہے؟ نیز قابل امامت ہے کہ نہیں؟ مع حوالہ کتب جواب عنایت فرمائیں۔ المستلقى محمد ساجد الرحمن مدرسہ رحیمیہ اہل سنت والجماعت دھونرا ضلع بریلی
الجواب: (1) داڑھی منڈانا حرام ہے اور مشابہت کفارا نام ہے۔ (۲) حدیث میں ہے: ”خالفوا المشرکین وفروا الحى وأحفو الشوارب) یہودی اور مجوسیوں کی مخالفت کر و مونچھیں پست کرو اور داڑھیاں بڑھاؤ۔ در مختار میں ہے: یحرم على الرجل قطع لحيته (۲) بد کار و مر تکب کبیر ہ لائق امامت نہیں۔ غنیہ میں فتاوی حجہ سے ہے : ”لوقدموا فاسقايأثمون‘(۳) اسے امام بنانا گناہ کہ شرعا اس کی تعظیم حرام اور اہانت واجب ہے۔ صحيح البخاری، کتاب اللباس، باب تقليم الاظفار ، ص ۸۷۵ مجلس برکات الدر المختار، ج ۹، ص ۵۸۳، کتاب الحظر والاباحة باب الاستبرا وغيره، دار الكتب العلمية، بيروت (۳) غنية المستملى شرح منیۃ المصلی، فصل فی الامامة، ص ۵۱۳ ، سهیل اکیڈمی رد المحتار میں ہے: وبان في تقديمه للامامة تعظيمه وقد وجب عليهم اهانته شرعاً (۱) اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ کہ پڑھنی گناہ اور پھیر نی واجب۔ در مختار میں ہے: كل صلوٰة اديت مع كراهة التحريم تجب اعادتها “(۲) اذان اس کی مکروہ تحریمی ہے جس کا شرعا اعتبار نہیں کہ فاسق کی خبر پر دیانات میں اعتماد نہیں ۔ قال تعالى : ها الذين امنوا إن جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَهَا فَتَبَيَّنُوا - الآية (3) اے ایمان والو! جب تمہارے پاس فاسق کوئی خبر لائے تو تحقیق کرلو۔ لہذا در مختار میں ہے: وو جزم المصنف بعدم صحة اذان مجنون ومعتوه وصبى لا يعقل قلت : وكافر ،، و فاسق لعدم قبول قوله في الديانات (۴) از آں جاں اگر فتنہ کا خوف نہ ہو، تو اذان کے اعادہ کا حکم ہے اقامت بھی اس سے نہ کہلائی جائے بلکہ جو عادل اذان دے اسی کو اقامت کہنا اولیٰ ہے۔ حدیث میں ہے: من أذن فهو يقيم (ه) واللہ تعالیٰ اعلم لقد اصاب من اجاب فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله قاضی عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی