سجدہ قبر کے متعلق نزاع اور مسلمان کی تکفیر سے متعلق حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ھذا میں کہ: پیش امام جامع مسجد گڑھ کی طبیعت علیل ہو گئی انہوں نے عام مسلمانوں کے سامنے پیش امام جامع مسجد گڑھ کو نماز عید پڑھانے کی اجازت دی سبھی لوگوں نے منظور کر لی اور سبھی لوگ عید گاہ پہنچے اور بکر بھی عید گاہ گئے ۔ صف بندی ہوگئی پیش امام مصلے پر گئے تو فوراً بکر صف سے نکل کر باہر چلے گئے ۔ عید کے دوسرے روز لوگوں نے بکر سے پوچھا کہ عید گاہ سے کیوں نکل گئے تو انہوں نے کہا کہ پیش امام جامع مسجد نے کہا تھا کہ اجمیر شریف جانا شرک ہے پیش امام سے دریافت کیا گیا تو ان کا کہنا یہ ہے کہ ہم نے اجمیر شریف جانا شرک نہیں کہا۔ اجمیر شریف جانا مستحب ہے بلکہ قبر کا سجدہ کرنا شرک ہے، بکر گواہ پیش کرتا ہے ، پیش امام کا کہنا ہے کہ قرآن شریف لے کر کہہ دے کہ ہم نے ایسا کہا ہے تو تو بہ کرنے کو تیار ہوں بکر کہتا ہے کہ ان کے ہاتھ کا ذبیحہ کھانا نا جائز ہے اور یہاں تک کہ نوبت ہوگئی ہے کہ موت مٹی میں بھی شریک نہ ہوتا ہے بڑی نا اتفاقی پیدا ہوگئی لہذا بکر اور پیش امام دونوں کے لئے قرآن شریف کی روشنی میں مکمل جواب مرحمت فرما ئیں تا کہ آپس میں بھی لوگ اور پوری جماعت ایک ہو جائے۔ (1) مستفتی غلام رسول علی ، مقام و پوست گرته بضلع ریوا ، ایم بی
الجواب: فی الواقع اگر اس بات کا جو درج سوال ہوئی شرعی ثبوت نہیں ہے تو امام پر اس وجہ سے الزام نہیں مگر امام کا اقرار سوال میں تحریر ہوا کہ قبر کو سجدہ کرنا شرک ہے امام کا یہ دعویٰ غلط ہے۔ سجدہ تحیت ہماری شریعت میں حرام ہے۔ شرک نہیں اور قبر کو سجدہ کوئی نہیں کرتا۔ عوام بوسہ ضرور دیتے ہیں جسے وہابیہ براہ جہالت سجدہ بتاتے اور بے باکانہ سنیوں کو مشرک ٹھہراتے ہیں سجدہ پیشانی زمیں پر رکھنے کا نام ہے اور یہ به نیت عبادت خاص خدا کے لئے ہے اور بہ نیت تعظیم اگلی شریعتوں میں بندگان خدا کے لئے جائز تھا اور ہماری شرع میں حرام ٹھہر اتو بالفرض اگر کوئی جاہل قبر کو سجدہ کرتا ہے تو حرام کا مرتکب ہوتا ہے اسے مطلق مشرک گردانا بد گمانی ہے جو حرام اور وہابیہ زمانہ کا کام ہے ہم اہل سنت مسلمانوں پر بد گمانی روا نہیں رکھتے بلکہ ان کے قول و فعل کو محمل حسن پر محمول کرتے ہیں ۔ در مختار میں ہے: ،، لانا لا نسيئ الظن بالمسلم انه يتقرب الى الآدمي (1) رد المحتار میں ہے: لا یفتی بکفر مسلم امکن حمل کلامه او فعله علی محمل حسن أو كان في كفره خلاف ولورواية ضعيفة اه (۲) امام مذکور کے عقیدہ کی تحقیق کی جائے کہیں وہابی تو نہیں بعد ثبوت وہابیت اس سے شدید احتراز لازم ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں قادری از هری غفرله صح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم ۱۴ / ، رمضان المبارک ۲ قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی