داڑھی منڈے کو امام بنانے اور فاسق کی امامت کا حکم
ان کی بات پر اتفاق کر کے اس کے بارے میں مدرسہ ضیاء العلوم ٹکیہ پاڑہ ہوڑہ سے فتوی طلب کیا، صدر مدرسہ جناب مولانا کوثر صاحب امجدی بلیاوی نے یہ فرما یا بغیر داڑھی والوں میں جو بہتر ہو اس کو امام بنا کر نماز جماعت سے ادا کریں ۔ اور داڑھی رکھنے کی کوشش کریں داڑھی رکھنی واجب ہے مگر صوفی صاحب اب بھی اپنے فیصلہ پر اٹل ہیں اور کہتے ہیں یہ فتوی میں نہیں مانتا یہ غلط لکھا ہوا ہے کسی کتاب کا حوالہ نہیں ہے۔ حالانکہ فتوی میں اصحیح کر کے کئی علماء کے دستخط موجود ہیں پھر بھی انکار ہے۔ (۲) ایسا عقیدہ رکھنے والا جو اہل سنت و جماعت کے علماء کی باتوں ( یعنی شرعی باتوں ) کو نہ مانے ایسے آدمی کے بارے میں شرع کا کیا حکم ہے؟ وہ شخص کہیں امامت کر سکتا ہے کہ نہیں ؟ اس کے پیچھے نماز پڑھنا درست ہے کہ نہیں ؟ ان سوالوں کا جواب فقہ کی کتابوں سے ہو جس پر ہمارے اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ متفق ہوں جواب سے نوازیں۔ المستفتی محمد اقبال حسین صدیقی ، ہوڑ وہ کلکتہ
۱۵/دسمبر ۱۹۷۸ء الجواب: صوفی صاحب مذکور نے صحیح مسئلہ بتایا واقعی داڑھی منڈے کو امام بنانا گناہ اور اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہے یعنی پڑھنی گناہ اور پھیر نی واجب ہے۔ غنیہ میں ہے: ،، لوقدموا فاسقا يأثمون بناء على ان كراهة تقديمه كراهة تحريم (1) رد المحتار میں تنبیین الحقائق سے ہے: وبان في تقديمه للامامة تعظيمه وقد وجب عليهم اهانته شرعا (۲) اور از آں جاں کہ نص مطلق بلا استثناء ہے اور قاعدہ کلیہ اصولیہ ہے کہ مطلق اپنے اطلاق پر جاری رہے گا لہذا اس صورت مسئولہ میں بھی وہی حکم مطلق جاری رہے گا اور فاسق کا اپنے جیسے فاسق پر مقدم ہونا بھی اسی اطلاق سے ممنوع ہوگا اور جماعت کیلئے تقدیم فاسق کی اجازت نہ ہوگی کہ جماعت کو برقول راجح اگر واجب ہی ما نہیں تو فاسق کو مقدم نہ کرنا بھی واجب ہے اور جماعت قائم کرنا تقدیم فاسق سے اولی نہیں بلکہ بموجب قاعدہ: درء المفاسد اولى من جلب المصالح مفاسد کو دور کرنا حصول مصالح سے اولیٰ ہے بلکہ متعین یہی ہے کہ فاسق کو امام نہ بنائیں کہ اس کی تقدیم میں اسکی تعظیم سے جو ضرر دینی ہے وہ حرمان ثواب جماعت سے بدر جہاز ائد ہے بلکہ اس کے ساتھ ہونا اب جماعت تو کجا نفس نماز میں سخت اندیشہ ہے کر فسق، احکام شرع سے لا پرواہی کا کھلا قرینہ ہے۔ اور ایسے سے کسی امر مفسد نماز کا ارتکاب بعید نہیں لا جرم فقہاء نے اس کی امامت مکروہ ہونے کی یہ علت بھی افادہ فرمائی غنیتہ میں عبارت مذکورہ سے مقید فرمایا: لعدم اعتناء ه بامور دينه وتساهله في الاتیان بلوازمه فلا يبعدمنه الاخلال ببعض شروط الصلوة وفعل ما ينافيها بل هو الغالب بالنظر الى فسقه تو بحمدہ تعالیٰ فتویٰ اسی پر ہے جو پہلے گزرا اور مزید اطمینان کے لیے اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کی یہ تصریح حاضر ہے فتاویٰ رضویہ شریف میں فرماتے ہیں: ” جب مبتدع یا فاسق معلن کے سوا کوئی امام نہ مل سکے تو منفرداً پڑھیں کہ جماعت واجب ہے اور اس کی تعظیم ممنوع بکراہت تحریم اور واجب و مکروہ تحریمی دونوں ایک مرتبے میں ہیں“۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) مسائل شرع میں ضروریات دین کا منکر کا فربے دین ہے اس کے پیچھے نماز باطل محض ہے ہمارے امام اعظم ابوحنیفہ کا ارشاد ہے: ان الصلوة خلف اهل الاهواء لاتجوز اور ان کے سوا دیگر مسائل کا منکر گمراہ ہے اسے امام بنانا مکروہ تحریمی ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں قادری از هری غفرلہ ۲۲ محرم الحرام ۱۳۹۹ھ الجواب صحیح ۔ سوال نمبر ۲ میں شرعی باتوں سے مراد اگر مدرسہ ضیاء الاسلام کا وہ فتویٰ ہے جس میں داڑھی منڈے کو امام بنانے کی اجازت دی ہے تو چونکہ وہ فتویٰ غلط ہے اس کو نہ مانا تو ٹھیک کیا اس کو نہ ماننا ہی چاہیے تھا۔ اس کو نہ ماننے والے پر کوئی الزام نہیں ، فقط واللہ تعالیٰ اعلم ثم رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم محمد احمد جہانگیر غفرلہ شیخ الحدیث منظر اسلام بریلی شریف