عورتوں کی جماعت، مردوں کے بالوں کی لمبائی اور شیروانی کے بٹن سے متعلق مسائل
(۳) عورت گھر میں باجماعت نماز پڑھ سکتی ہے یا نہیں جبکہ جماعت میں زیادہ ثواب ہے زید کہتا ہے عورتوں کی جماعت مکروہ تحریمی ہے کیا یہ کہنا درست ہے اگر جماعت ہو بھی تو امام کہاں کھڑی ہو آگے یا برابر میں؟ (۴) مرد کو کہاں تک زلف رکھنا درست ہے زید کا زلف اتنا لمبا ہے کہ وہ چوٹیاں باندھ لیتے ہیں اور جب نماز پڑھنے کھڑے ہوتے ہیں تو اس وقت کھول دیتے ہیں کیا باندھ کر نماز پڑھنے سے نماز نہ ہوگی؟ اور زید کہتا ہے کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے گیسو مبارک بہت لمبے تھے حضور کی اتباع کرتے ہوئے اتنالم بابال رکھنا درست ہے کیا زید کا کہنا صحیح ہے؟ (۵) اگر امام نماز پڑھتا ہو اور شیروانی کا بٹن کھلا ہوا ہو اور کرتا کا بٹن لگا ہوا ہوتو نماز مکروہ تحریمی ہوگی یا مکروہ تنزیہی ہوگی ؟
الجواب: المستفتی : حاجی حشمت علی محلہ پھوٹا دروازہ بریلی شریف یوپی (1) فی الواقع یہ مستحب ہے کہ امام قد قامت الصلوۃ پر نماز شروع کر دے اور مؤذن کے علاوہ بقیہ مقتدیوں کو بھی یہی بہتر ہے اور اگر امام تاخیر کرے یہاں تک کہ مؤذن فارغ ہولے تو بھی حرج نہیں۔ تنویر و در مختار میں ہے: ”و شروع الامام في الصلوة مذ قيل قد قامت الصلوة ولو اخر حتى اتمها لا باس به اجماعاً ) رد المحتار میں ہے: قوله وشروع الامام وكذا القوم لان الافضل عند ابي حنيفة مقارنتهم کماسیاتی قوله لا باس به اجماعاً اى لان الخلاف في الافضلية فنفى البأس اى الشدة ثابت في كلا القولين وان كان الفعل اولى في احدهما (۱) الدر المختار، ج ۲، کتاب الصلوة ، باب صفة الصلوة ، ص ۱۷۷ ، دار الكتب العلميه بيروت (۲) ردالمحتار، ج ۲، کتاب الصلوۃ، باب صفة الصلوة ، ص ۱۷۷ ، دار الكتب العلميه بيروت (۲) اگر سینہ پورا چمکتا ہے تو نماز مکروہ تحریمی ہے اور اگر جنسلی کی ہڈی جو سینے میں داخل ہے چکے تو نماز مکروہ تنزیہی ہوگی۔ واللہ تعالی اعلم (۳) زید صحیح کہتا ہے اور اگر عورتیں جماعت کریں تو امام کو لا زم ہے کہ بیچ میں کھڑی ہو ورنہ گناہ گار ہوگی ۔ تنویر و در مختار میں ہے: دو ويكره تحريما جماعة النساء ولو فى التراويح فى غير صلاة جنازة فان فعلن تقف الامام وسطهن فلو قدمت اثمت الا الخنثى فيتقدمهن كالعراة فيتوسطهم امامهم ويكره جماعتهم تحریماً (1) واللہ تعالیٰ اعلم (۴) کندھوں تک ، کندھوں سے نیچے تک بال بڑھانا حرام ہے کہ مشابہت زناں ہے جس پر حدیث میں لعنت آئی ۔ حدیث میں ہے: لعن الله المتشبهات من النساء بالرجال والمتشبهين من الرجال بالنساء (٢) اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے ان مردوں پر جو عورتوں کی وضع اختیار کریں اور مرد بننے والیوں پر اور بال باندھ کر نماز پڑھنا مکروہ ہے نماز واجب الاعادہ ہوتی۔ حدیث میں ہے: امرت ان اسجد على سبعة اعظم ولا اكف شعر اولا ثوبا (۳) حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے سر کے بال کبھی کاندھوں تک اور کبھی کا ندھوں سے اوپر ہوتے۔ نہایہ شریف میں ہے: وفيه كان لرسول الله صلى الله تعالى عليه وسلم جمة جعدة الجمة من شعر الراس ما سقط على المنكبين اه (۱) اسی میں ہے: (وفيه) مارأيت ذا لمة احسن من رسول الله صلى الله تعالى عليه وسلم - اللمة من شعر الراس دون الجمة سميت بذلك لانها المت بالمنكبين فاذا زادت فهى الجمة (۲) شخص مذکور اگر کاندھوں تک بال رکھتا ہے تو صادق ہے اور اگر حد مذکور سے زیادہ رکھتا ہے تو جھوٹا ہے کہ خلاف شرع بال بڑھاتا ہے پھر دعوئی اتباع کرتا ہے بلکہ اپنے اس فعل بد کی تہمت حضرت اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ واصحابہ وسلم پر دھرتا ہے۔ اور یہ بہت بڑ اوبال ہے۔ حدیث میں ہے: من كذب علی متعمداً فليتبوامقعدہ من النار (۳) جو میرے او پر دانستہ جھوٹ باند ھے تو اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنائے ۔ بلکہ پہلی صورت میں بھی جملہ کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے گیسو مبارک بہت لمبے تھے۔ ایہام سے خالی نہ تھا اس پر بیان لازم تھا۔ اگر چہ دعویٰ اتباع میں بہ ظاہر سچا ہے۔ اور اس صورت میں نہ تو یہ دعوی سچانہ وہ جملہ سیچ جبکہ حد مسنون قدر مسنون سے زائد رکھنا مراد ہو اور چوٹی باندھنا بہر حال منع ہے اور ایسے کو امام بنانا گناہ۔ غنیہ میں ہے: لوقدموافاسقايأثمون(4) اور اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ کہ پڑھنی گناہ پھیرنی واجب۔ در مختار میں ہے: كل صلوٰة اديت مع كراهة التحريم تجب اعادتها ) واللہ تعالیٰ اعلم (۵) نماز میں کراہت تحریمی ایسی صورت میں لازم نہ آئے گی ہاں ایسا کرنا برا ہے۔ رد المحتار میں ہے: ”قال فی الخزائن بل ذکر ابو جعفرانه لو ادخل يديه في كميه ولم يشد وسطه اولم یزر ازراره فهو مسئ لانه يشبه السدل اه (۲) قلت لكن قال في الحلية فيه نظر ظاهر بعد ان يكون تحته قمیص او نحوه مما يستر صدر الرجل وبطنه لا اساءة فيه و عاتقاه مستورین و انما نهی النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم عما اذا صلى فى ثوب واحد وليس على عاتقيه مدة شئ ولا شک أن ارسال اثراف مثل الشابة من دون ان يزر أزرارها انما ليشبه السدل بنفس هيئته ولاتدخل فيه لوجود القميص تحته وعدمه كما ان السدل سدل وان كان فوق القمیص ورايتنی کتبت على هامشه ما نصه اقول النظران ظهر ففى كراهة التحريم اما التنزيهي فلاشک فی ثبوته و اللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں قادری از هری غفرله صبح الجواب۔واللہ تعالیٰ اعلم ریاض احمد سیوانی غفرلہ