روزہ نہ رکھنے والے فاسق کی امامت اور دیہات میں جمعہ و ظہر کے احکام
چیز میں نہ کھاؤں تو میرے دل کی کیفیت بدل جاتی ہے اور دورہ پڑ جاتا ہے اور دورہ بڑھ جاتا ہے۔ لیکن آج تک کسی بستی والے نے ان کو دورہ کی حالت میں نہیں دیکھا اور نہ سنا۔ صورت مذکورہ میں زید کی امامت درست ہے یا نہیں؟ (۲) حضور مفتی اعظم ہند رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ کے فتویٰ کی رو سے جمعہ کی نماز کے بعد اسی دن کے ظہر کی فرض نماز جماعت سے واجب ہے ایسی صورت میں امام جمعہ کی نماز کی نیت فرض کی کرے یا نفل کی ؟ کیا کسی امام کے نزدیک گاؤں میں جمعہ جائز ہے؟ (۳) امام صاحب نے بغیر مقتدیوں کے مشورہ کے جمعہ کے دن ظہر کی فرض نماز جماعت سے بند کر دی اس وجہ سے لوگوں نے جمعہ کے دن کی ظہر کی فرض پڑھنا چھوڑ دی تو اس کا بار امام کے سر ہے یا نہیں؟ (۴) امام صاحب بیرون نماز اور اندرون نماز اپنے تھوک نگلتے رہتے ہیں جس سے بار بار چوسنے کی آواز نکلتی ہے جو مقتدیوں کو بھی سنائی دیتی ہے۔ صورت مذکورہ میں نماز کی حالت میں مکروہ ہے یا نہیں؟ المستفتی نصیر الدین ، سر یدہ پٹی ضلع پیلی بھیت
الجواب: (۱) بے وجہ شرعی فرض روزہ نہ رکھنا حرام بد کام بدانجام ہے۔ اگر شرعا امام مذکورہ پر یہ جرم ثابت ہے تو وہ سخت فاسق معلن ہے اسے امام بنانا گناہ ہے اور اس کی اقتدا مکروہ تحریمی اور نماز واجب الاعادہ ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) دیہات میں جمعہ صحیح نہیں لہذا اس دن عوام جو پڑھتے ہیں وہ فضل ہی ہے خواہ جمعہ کی نیت کریں یا کچھ اور ۔ ہم حنفی پر امام اعظم کا حکم بتانا ضروری ہے اور انہیں کی اقتد الازم ۔ درمختار میں ہے: ”لو قيل لحنفى مامذهب الامام الشافعى فى كذا وجب ان يقول: قال ابوحنيفة كذا (1) واللہ تعالیٰ اعلم (۳) بے شک ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (1) الدر المختار ج ۵ ، كتاب الطلاق / باب العدة، ص ۱۸۶ ، دار الكتب العلمية بيروت (۴) تھوک بے ساختہ اگر جمع ہو جائے تو اسے نگل لینے میں حرج نہیں اور چوسنے میں اگر آواز نکلتی ہے جس سے حروف پیدا ہوتے ہوں تو نماز فاسد ہو جائے گی۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخان از هری قادری غفرله ۲ رمضان المبارک، ۱۴۰۴ھ