جمعہ کی دوسری اذان کا مقام اور اقامت کے وقت کھڑے ہونے کا شرعی حکم
(۳) جمعہ کے روز ثانی اذان ممبر کے سامنے کھڑے ہو کر دینا افضل ہے یا باہر سے؟ المستفتی :محمد عمر حاجی رمضان ۱۱۳۲۲، اسلام پورہ مالیگاؤں ضلع ناسک ، ۲ ، رجب ۱۳۹۷ھ
الجواب: (1) فی الواقع حکم یہی ہے کہ امام جبکہ مسجد میں پہلے سے حاضر ہو تو امام ومقتدی دونوں حی علی الصلاۃ تک بیٹھے رہیں اور حی علی الفلاح پر کھڑے ہوں پہلے سے کھڑا رہنا مکروہ ہے۔ یہاں تک کہ علماءحکم فرماتے ہیں کہ جو شخص مسجد میں آیا اور تکبیر ہورہی ہے تو وہ اس کے تمام تک کھڑا نہ رہے بلکہ بیٹھ جائے یہاں تک کہ مکبر حی علی الفلاح تک پہونچے اس وقت کھڑا ہو۔ شرح وقایہ میں ہے: "يقوم الامام والقوم عند حى على الفلاح ويشرع عند قد قامت الصلوة" ہندیہ میں ہے: "يقوم الامام والقوم اذا قال المؤذن حى على الفلاح عند علمائنا الثلثةهو الصحيح جامع المضمرات" رد المحتار میں ہے: "اذا دخل الرجل عند الاقامة يكره له الانتظار قائما لكن يقعد ثم يقوم اذا بلغ المؤذن قوله حی علی الفلاح" یہ اس صورت میں ہے کہ امام بھی وقت تکبیر مسجد میں ہوا گر وہ حاضر نہیں تو مؤذن جب تک اسے آتا نہ دیکھے تکبیر نہ کہے نہ اس وقت کوئی کھڑا ہو ، لقولہ علیہ السلام : "لاتقومواحتی ترونی" پھر جب امام آرہا ہو اور تکبیر شروع ہو اس وقت دوصورتیں ہیں ۔ اگر امام صفوں کی طرف سے داخل مسجد ہو تو جس صف سے گذرتا جائے وہی صف کھڑی ہوتی جائے اور اگر سامنے سے آئے تو اسے دیکھتے ہی سب کھڑے ہو جا ئیں اور اگر خود امام ہی تکبیر کہے تو جب تک پوری تکبیر سے فارغ نہ ہو مقتدی اصلا نہ کھڑے ہوں بلکہ اگر اس نے تکبیر مسجد سے باہر کہی تو پھر بھی نہ کھڑے ہوں جب وہ مسجد میں قدم رکھے تب کھڑے ہوں ۔ ہندیہ میں یہ عبارت مذکور ہے : فاما اذا كان الامام خارج المسجد فان دخل المسجد من قبل الصفوف فكلما جاوز صفاً قام ذالک الصف واليه مال شمس الائمة الحلواني والسرخسي وشيخ الاسلام خواهر زاده - وان كان الامام دخل المسجد من قدامهم يقومون اذارأوا الامام وان كان المؤذن والامام واحد: فان اقام في المسجد فالقوم لا يقومون مالم يفرغ من الاقامة وان اقام خارج المسجد فمشائخنا اتفقوا قبيل قوله قد قامت الصلوة) قال الشيخ الامام شمس الائمة الحلواني وهو الصحيح كذافى المحيط السرخسی ) اور دعائے ثانی بلاشبہ جائز و مستحسن ہے ہر گز منع نہیں ۔ اللہ عز وجل نے مطلق دعا کا حکم فرمایا: ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ () اور اصول کا قاعدہ ہے کہ مطلق اپنے اطلاق پر رہے گا اور مقید اپنی تقیید پر ۔ المطلق یجری على اطلاقه والمقيد علی تقییدہ ۔ تو بے دلیل شرعی نمازوں کے بعد دعائے ثانی سے منع کرنا قرآن عظیم کے حکم احکم میں تحریف ہے۔ ان داعیان سنت سے پوچھا جائے کہ کون سی آیت اور کونسی حدیث میں آیا ہے کہ فرضوں کے بعد دعا جائز اور سنتوں کے بعد دعا حرام ۔ حاشا و کلا ہرگز نہیں دکھا سکتے ہیں۔ تو کیا حرام و حلال دیو بندیوں کی زبان سے جو نکل جائے اسکا نام ہے۔ حاشا لقد الحلال ما احله الله والحرام ما حرمه الله - حلال وہ ہے جسے اللہ حلال فرمائے اور حرام وہ ہے جسے اللہ حرام فرمائے یا اس کے بتائے سے اسکا پیارا سچا رسول دانائے غیوب محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم جسے حرام فرمائے وہ حرام ، جسے حلال فرمائے وہ حلال، بلکہ جسکے بارے میں کچھ نہیں فرمائے حلال ہے، اسے حرام بتانا ضلال ہے۔۔۔ کیا حدیث مرفوع نہیں ہے؟ کہ سر کار فرماتے ہیں: ،، مارآه المسلمون حسنا فهو عند الله حسن ) جسے مسلمان اچھا جانیں وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اچھا ہے۔ اور سر کار فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم : لا تجتمع امتى على ضلالة “(۲) میری امت گمراہی پر اکٹھا نہ ہوگی۔ تو ضرور ثابت کہ رسول اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ساری امت پر اس فعل خیر کی وجہ سے بہ زعم خود بدعتی و گمراہ بتانا خود دیو بندیوں کی گمراہی ہے امام کے یہ افعال جائز و مستحسن ہیں۔ اور اس بنا پر اسے تعرض حرام و موجب خسران ہے اور وہابیہ دیابنہ کی تبلیغ ہی نام کی تبلیغ ہے وہ اللہ کوجھوٹا کاذب بالفعل مان کر رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کے لئے ختم نبوت کے وصف فضیلت ہونے سے مکر کے اسے جاہلوں کا خیال بتا کے حضور کے بعد کوئی نیا نبی زمانہ نبوی میں یا بعد زمانہ نبوی ممکن جان کے ایسے کا فر و مرتد ہوئے کہ جملہ علمائے حرمین شریفین و امصار و دیار نے متفقاً فرمایا: من شک فی کفره و عذابه فقد کفر (۳) یعنی جو اُن کے کفر و عذاب میں ان کے عقائد پر مطلع ہو کر شک کرے وہ خود کافر ہے ۔ دیکھو حسام الحرمین اور الصوارم الہندیہ۔ پھر یہ جدا ہے کہ ان کا مقصد تبلیغ نماز نہیں بلکہ ایک نئی قوم پیدا کرنی ہے دیکھو دینی دعوت مصنفہ ابوالحسن علی ندوی۔ امام کا منع کرنا صیح و بجا ہے اور یہ کہا گیا کہ ٹرسٹیوں کو بے وجہ بتائے امام کو برطرف کرنے کا حق ہے سبحان اللہ ! بے وجہ شرعی کسی ملازم کو برطرف کر ناظلم صریح وحرام و ممنوع ۔ درمختار میں ہے: لا يعزل صاحب وظيفة بغير جنحة (1) اور یہ حرام ان ٹرسٹیوں کے لیے حق ۔ ناحق کو حق بتانا کفر ہے۔ دیو بندیت سے اور اس سے تو بہو تجدید ایمان و نکاح لازم نیز اگر اس مسجد کے اکثر مقتدی سنی صحیح العقیدہ ہیں تو انہیں لازم ہے کہ ان ٹرسٹیوں کو معزول کر کے سنیوں کی کمیٹی بنا ئیں انہیں معزول پر کوئی حق برتری حاصل نہیں ہے۔ درمختار میں ہے: (وینزع) وجوبابزازیه (لو) الواقف در رفغیره بالاولى(غیرمامون) أو عاجزاًاو ظهر به فسق کشرب خمر ونحوه فتح (۲) یہ عبارت صاف ہے کہ واقف جس نے مسجد وقف کی اگر غیر امین یا عا جز یا فاسق شرابی بدکار ہے تو معزول کیا جائے گا تو بد عقیدہ دیوبندی کا کیا پوچھنا ہے ضرور ضر ور معزول کیے جائیں اور سنی صحیح العقیدہ لائق امامت ہی رہ سکتا ہے، سنی مقتدیوں پر دیو بندی کو مسلط کرنا باطل ۔ وَلَن تَجْعَلَ اللهُ لِلْكَفِرِينَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ سَبِيلًا (۳) واللہ تعالیٰ اعلم (۲) ان کی نماز اصلاً ہوتی ہی نہیں خواہ تنہا پڑھیں یا کسی صحیح العقیدہ کے پیچھے پڑھیں ۔ درمختار میں ہے: وان انكر بعض ما علم من الدين ضرورة كفر فلا يصح الاقتداء اصلا (۲) واللہ تعالیٰ اعلم (۳) باہر سے امام کے سامنے ، کہ مسجد میں اذان مکروہ ہے۔ جملہ فقہاء فرماتے ہیں: لا يؤذن في المسجد ويكره أن يؤذن في المسجد (۵) فقیر محمد اختر رضا خاں قادری از هری غفرله الجواب صحیح وصواب الحبیب مشاب۔ واللہ تعالی اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی