غیر مقلد کے پیچھے نماز کا حکم اور فتنہ سے بچنے کے لیے اٹھک بیٹھک کرنے کا مسئلہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ھذا میں کہ: میں ایک گاؤں میں رہتا ہوں جہاں کہ لوگ غیر مقلد رہتے ہیں اور اپنے آپ کو اہل حدیث یا محمدی اور کوئی کوئی شافعی کہتے ہیں اور نماز کچھ اور طرح سے پڑھتے ہیں جیسے ہاتھ جھاڑتے ہیں اور آمین زور سے کہتے ہیں وتر صرف ایک رکعت تراویح ۸ رکعات پھر (ض) کا تلفظ (ظ) پڑھتے ہیں فجر میں اکثر میں ہی نماز پڑھاتا ہوں یعنی میں اپنی نماز پڑھتا ہوں تو لوگ میرے پیچھے نماز پڑھنا شروع کر دیتے ہیں اور میری امامت میں پڑھتے ہیں لیکن کبھی کبھی غیر مقلد کے بڑے عالم آجاتے ہیں تو مجبورا چونکہ میں اکیلا ہوں عالم غیر مقلد کے پیچھے ہو جاتا ہوں اور ساتھ ساتھ نماز کے ارکان کو ادا کرتا ہوں لیکن نہ اقتدا کی نیت کرتا ہوں نہ کچھ پڑھتا ہوں کہ رکوع کی تسبیح یا سجدہ کی نہ التحیات اور نہ درود نماز میں صرف فتنہ وفساد سے بچنے کیلئے اٹھک بیٹھک کرتا ہوں بعد جماعت اپنی نماز اچھی طرح ادا کرتا ہوں میرا ایسا کرنا کیسا ہے؟ چونکہ میں یہاں غریب ہوں کہ میری بحالی بہار سرکار کی طرف سے سرکاری اسکول میں ہوگئی ہے اگر کچھ کہا جائے تو میری جان اور غربت پر سخت خطرہ ہے۔
الجواب: (1) غیر مقلد گمراہ ہیں اور بہ اقوال اکثر فقہا مثل دیگر وہابیہ ان پر کفر کا حکم الہذا انکے پیچھے نماز باطل محض یا مکروہ بہ کراہت شدیدہ ہے اور نماز جب ایک وجہ سے فاسد ہو توحکم فساد ہی کا ہوگا۔ (1) فتح القدیر میں ہے: لان الصلوة متى فسدت من وجه وجازت من وجوه حکم بفسادها (۱) فتح القدير، ج ۲، کتاب الصلوۃ، باب صلوة المسافر، ص ۳۹، برکات رضا ای فتح القدیر میں امام اعظم ابو حنیفہ سے ہے: ،، ان الصلوة خلف اهل الاهواء لا تجوز )) بلکہ انہیں بخوشی امام بنا ناسخت گناہ ہے اور بہ قول اکثر کفر ہے کہ امام بنانا تعظیم اور کافر کی تعظیم کفر ہے۔ در مختار میں ہے: لان تبجيل الكافر كفر (۲) اور اس پر الزام نہیں جسے خوف ہلاک ہو اور اس کے دفع پر قادر نہ ہو نہ اقتد اسے کسی طرح مفر ہو جبکہ اقتدا کی نیت نہ کرے قال تعالیٰ: إلا من أكرة وَقَلْبُهُ مُطمين بالإيمان الآية (3) اور نمازوں کا اعادہ لازم اور اگر دفع فتنہ پر قادر ہو یا اقتداء سے مفر ہو تو ہرگز ہرگز اقتدا نہ کرے۔واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری غفرلہ