احکامِ نسبندی، ریڈیو و باجا، مقامِ منبر اور نیتِ تہجد
(۲) با جالاؤڈ اسپیکر یا ریکارڈ ریڈیو وغیرہ بجا کر ذریعہ معاش بنایا جا سکتا ہے اور جہیز میں ریڈیو با جا دیا جاسکتا ہے کہ نہیں؟ (۳) جامع مسجد میں ممبر کے دائیں طرف زیادہ جگہ ہے اور بائیں جانب کم ہے جس سے ممبر بیچ میں نہیں پڑ رہا ہے مسجد کی ایسے ہی بناوٹ ہے کیا نماز میں خلل ہے؟ (۴) نماز تہجد سنت یا نفل کی نیت سے پڑھی جائے؟ مندرجہ بالا مسائل کا حل حنفیہ رو سے قرآن وحدیث کی روشنی میں واضح طور پر جواب دیں۔ مستفتی علی رضا ساکن رامپور با آگفانه رامپور ضلع غازی پور یوپی
الجواب: (1) نسبندی کرانا حرام بد کام بد انجام ہے وہ شخص گناہ گار ہوا تو بہ کرے بعد تو بہ اگر لائق امامت ہو امامت کر سکتا ہے اور اس کے صف میں کھڑے ہونے سے نماز میں کوئی خلل نہیں آتا۔ یہ خیال کہ نماز میں خلل ہوتا ہے، ناجائز و حرام ہے جس سے تو بہ لازم ہے اور اس سے کراہیت بھی بیجا ہے اس سے بھی باز آنا ضروری ہے۔ نسیدی کا پوسٹر ہمراہ فتوی روانہ ہے۔ واللہ تعالی اعلم (۲) نہیں کہ باجے حرام ہیں اور ان کی اجرت باطل و نا مشروع ہے اور ریڈیو ایسے کو دینا منع جس کے بابت یہ معلوم ہو کہ گانے سنے گا گناہ پر اعانت ہے۔ قال تعالیٰ: وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ } () واللہ تعالیٰ اعلم (۳) نہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) دونوں نیتیں جائز ہیں جس نیت سے پڑھے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ شب جمعه ۱۹ ؍ ربیع الاول ۱۳۹۸ھ صح الجواب واللہ تعالیٰ اعلم قاضی عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی