امامت کی اہلیت، جمعہ وعیدین کے لیے امام کی شرائط اور عالم کے غلط بیان کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: زید ایک گاؤں میں فرائض امامت اور معلم کے فرائض انجام دیتا ہے، یہاں قرب وجوار کے لوگ نماز جمعہ اور پنج وقتہ نماز اور عیدین کی نماز زید کے پیچھے پڑھتے ہیں۔ عمرو کے گاؤں کے کچھ لوگوں نے خواہشات نفسانی کو لیکر الزام لگایا کہ ہم لوگ نماز عیدین زید کے پیچھے نہیں پڑھیں گے حالانکہ عمرو کے گاؤں کا امام نماز جمعہ اور پنج وقتہ اتفاقا یہاں آنا جب ہوا زید کے پیچھے پڑھتے ہیں اور زبانی اپنے گاؤں والوں کو ثبوت بھی دے چکے ہیں تا ہم قرب وجوار کا اتحاد واتفاق برقرار رکھتے ہوئے کچھ شرائط مان لی گئیں لہذا دوا کا بر علمائے کرام (بحیثیت ممتحن ) علاوہ ازیں ایک فرد فارغ التحصیل درس نظامیہ ( الجامعۃ الاشرفیہ مبارکپور اعظم گڑھ یوپی اور درس عالیہ الہ آباد بورڈ یوپی اور دو مخصوص افراد جو شرع کے مسائل حنفیہ کثیر جاننے والے ہیں رکھا گیا، ( بحیثیت غیر ممتحن ) زید مذکور سے سورۂ فاتحتہ قرآة الحسن ) میں پڑھوایا گیا سورہ ختم کے بعد ا کا بر علمائے کرام اہل سنت والجماعت کے کلام کے قرائن سے معلوم ہوا ہے کہ درست ہے مگر ایک عالم یہاں سے جا کر عمرو کے گاؤں میں کہہ دیا کہ زید نے ایک آیت بھی صحیح نہیں پڑھی اگر واقعہ ایسی بات تھی تو از روئے شرع نشان دہی کرنی چاہئے تھی تا کہ اس کو دور کیا جاسکے لہذا اب علمائے کرام کے اوپر شریعت کیا حکم لگاتی ہے؟ بالتفصیل عنایت فرمائیں۔ لہذا جواب از روئے شرع نص قطعی حدیث ، فقہ کی روشنی میں علیحدہ علیحدہ مفصل ارشاد فرمائیں کہ آیا زید وغیرہ اور عمرو وغیرہ کے اوپر شریعت کیا حکم لگاتی ہے ارشاد فرما ئیں ۔ عین نوازش و کرم ہوگا ، نا چیز مشکور رہے گا۔ نوٹ :۔ آیا امامت کا حق کس کو ہے زید وغیرہ کی نماز عید ہوئی کہ نہیں؟ اور ایسے علماء کے اوپر شریعت کیا چارج لگاتی ہے، مؤدبانہ گذارش ہیکہ جواب جلد از جلد عنایت فرمائیں۔ المستفتی: محمد یعقوب مصباحی رضوی ، کھر سرا ضلع بلیا، (یوپی)
مجتمع شراط ومازون اولی بالا مامت ہے ! حاضرین میں اگر کوئی افضل ہو تو اسے امامت لئے بڑھانا جائز ہے! جمعہ وعیدین کے لئے امام کا سلطان یا ماذون یا ماذون الماذون ہونا شرط ہے! جہاں سلطان نہیں وہاں قائم مقام سلطان کون؟ لائق امامت جمعہ و عیدین جماعت میں ہو تو نماز ہو گئی گر چہ امام ماؤون نہ ہوا الجواب: مجتمع شرائط امامت اور ماذون ہو وہ مستحق ہے اور وہ دوسرے سے اولیٰ ہے اگر چہ دوسرا اُس سے افضل ہو۔ در مختار میں ہے: دو صاحب البيت و امام المسجد الراتب اولى بالامامة من غيره مطلقا ہاں اسے چاہیے کہ اگر اس سے افضل موجود ہو تو اسے مقدم کرے۔ رد المحتار میں ہے: (مطلقا) اى وان كان غيره من الحاضرين من هو اعلم واقرأمنه، وفي التتارخانية: جماعة اضیاف فى دار يريد أن يتقدم أحدهم ينبغى ان يتقدم المالك، فان قدم واحد منهم لعلمه وكبره فهو افضل ان تقدّم احدهم جاز لان الظاهر أن المالك يأذن لضيفه اكراما ،، له-اه (۲) پھر عیدین وجمعہ میں یہ بھی ملحوظ رکھنا لازم ہے کہ امام جمعہ وعیدین کی امامت کا ماذون ہو کہ ان نمازوں کے لئے شرط یہ ہے کہ سلطان اسلام یا اسکا ماذون الماذون ہو ور نہ نماز نہ ہوگی۔ در مختار میں ہے: دو والثانى السلطان ولو متغلبا او امرأة فيجوز امرها باقامتها او مأمورة باقامتها_ملخصا (۳) اور جہاں سلطان نہیں وہاں اس جگہ کاسنی صحیح العقیدہ اعلم علماء مرجع فتولی قائم مقام سلطان ہے۔ حدیقہ ندیہ میں ہے: ’اذا خلى الزمان من سلطان ذى كفاية فالامور مؤكلة الى العلماء ويلزم الامة الہذاوہ شخص جس نے نماز عید پڑھائی اگر ماذون تھا تو اس کی اقتداء میں نماز عید ہوگئی اور اگر وہ مازون نہ تھا تو اسکی اقتداء میں نماز عید درست نہ ہوئی بشر طیکہ اس کی اقتدا نہ کی ہو جسے اقامت عید ین کا حق ہے اور اگر اس کے پیچھے ایسا شخص موجود تھا جسے عیدین کی اقامت کا حق ہے تو ہوگئی کہ دلالتہ اذن موجود ہوا۔ در مختار میں ہے: ” وفی السراجية لوصلى احد بغير اذن الخطيب لا يجوز الا اذا اقتدى به من له ولاية الجمعة “(۲) رد المحتار میں ہے: ” قولہ الا اذا اقتدى به من له ولاية الجمعة شمل الخطيب المأذون وذلك لان الاقتداء به اذن دلالة (۳) واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۵ محرم الحرام ۱۴۰۵ھ