تجوید و مخارج سے ناواقف اور احکامِ نماز سے جاہل شخص کی امامت کا شرعی حکم
فرما کر حکم شرع سے مطلع فرمائیں۔ (1) ایسا شخص جو نماز و طہارت کے احکام سے ناواقف ہو۔ اور قرآن صحیح نہ پڑھتا ہو یعنی حروف مخارج سے ادا نہ کر پاتا ہوعلم تجوید سے ناواقف اور جامع شرائط امامت نہ ہو جوث ،س، ص، ج ، ز، ظ، ض، ت، ط اور یہاں تک کہ س، ش، ق، ک، وب (جیسے ابابیل کو او اویل پڑھتا ہو ) کی تفریق نہ کر پاتا ہو مستحق امامت ہے یا نہیں؟ (۲) جامع شرائط امام کے ہوتے ہوئے کیا ایسے شخص کو جسکا ذکر سوال لے میں کیا گیا امام بنانا یا خود امام رہنا اور ایسے امام کے لیے کوشش کرنا یا جولوگ ایسے امام کے پیچھے نماز پڑھنے کے لیے مجبور کریں ان کا یہ فعل شریعت مطہرہ کے نزدیک درست ہے یا نہیں؟ (۳) به وجہ عذر شرعی جس شخص کے پیچھے نماز پڑھنے میں قوم کے لوگ کراہیت کرتے ہوں اور نمازیوں کی تعدا در روز بروز کم ہوتی ہو نماز درست ہے؟ اور اس کو قوم کے آگے امامت کے لیے کھڑا ہونا صحیح ہے؟ (۴) قاری مسجد میں موجود ہے اور جامع شرائط امامت بھی ہے اور ایک شخص جو قرآن ناظرہ خواں ہے اور جسکی تعریف سوال نمبر 1، وسلے میں درج ہے نماز پڑھائے درست ہے یا نہیں اور قاری اس (امی) کے پیچھے مقتدی ہو تو قاری اور اس امام کی نماز ہوگی پا نہیں؟ (۵) امام کی نماز مقتدی کی نظر (خیال) میں صحیح نہ ہو تو امام اور مقتدی کی نماز ہوگی یا نہیں؟ یہ کہ مقتدی امام سے علم میں مسائل نماز وطہارت قرآن زیادہ پڑھا ہونے میں علم تجوید میں خوبصورتی میں خوش اخلاقی میں حسب میں نسب میں اگر اس امام سے مقدم ہے تو کسے امام بنایا جائے ۔ جواب مرحمت فرما کر شرع شریف کے احکام سے آگاہ کریں۔
الجواب: المستفتی : خادم العلمها ، فیاض الرحمن خاں رضوی مصطفوی ساکن موضع امر یا سید پور ڈاکخانہ پی۔اے۔سی تحصیل و ضلع بریلی شریف (۱) اس کے پیچھے نماز نہ ہوگی لہذا اسے ہرگز امام نہ بنایا جائے ۔ اللہ تعالیٰ اعلم (۲) نادرست۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) جبکہ وہ صیح خواں نہیں تو نماز درست نہیں اور اس کا امامت کو کھڑا ہونا گناہ ہے۔ حدیث میں ہے : " لا يقبل الله منهم صلاة من تقدم قوما و هم له كارهون (1) واللہ تعالیٰ اعلم (۴) امام مقر اگر لائق امامت ہے تو وہ مطلقاً اولیٰ ہے اس کے اوپر کسی کوحق تقدم نہیں ہاں امام مقرر کو چاہئے کہ افضل کو مقدم کرے ورنہ دوسرا امامت کیلئے آپ ہی معین ۔ در مختار میں ہے: ”امام المسجد الراتب اولی بالامامة من غير و مطلقا (1) واللہ تعالیٰ اعلم (۵) مقتدی کی نماز نہ ہوگی اور اگر نفس الامر مقتدی کے خیال کے مطابق ہو تو امام کی بھی نہ ہوگی ۔ فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله واللہ تعالیٰ اعلم صبح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم ۱۱/ ذیقعده ۱۴۰۰ھ قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی (۱) سنن ابی داؤد، ج ۱، کتاب الصلوۃ، باب الرجل يؤم القوم وهم له كارهون ، ص ۸۸، مطبع اصح الـ (۲) الدر المختار، ج ۲، کتاب الصلوة ، باب الامامة، ص ۲۹۷ ، دار الكتب العلمية، بيروت