بے پردہ بیوی کے شوہر (دیوث) اور شہرت پسند مولوی کی امامت کا شرعی حکم
(1) ایک مولوی ہیں مگر انہوں نے اپنے کو عالم دین مشہور کر رکھا ہے اپنے قلم سے اشتہار وغیرہ میں اپنے کو حضرت مولانا لکھ کر یا اشتہار میں چھپوا کر عوام میں شہرت حاصل ہونے کو بہت پسند کرتے ہیں تا کہ لوگوں کی نظروں میں زیادہ عزت و وقار ہو جائے۔ (۲) دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ یہی مولوی ہیں کہ ان کی بیوی ایک سرکاری اسکول میں پڑھاتی ہیں اور بالکل بے پردہ اور بے حجاب رہتی ہیں۔ لہذا ان دونوں مسئلوں کو قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب سے مستفیض فرمائیے گا۔ آیا ایسے مولوی کے پیچھے نماز ہو سکتی ہے کہ نہیں ؟ فقط ۔ والسلام ۔ جواب کے لئے لفافہ ارسال خدمت ہے۔
جس کی بیوی بے پردہ پھرے اور وہ منع نہ کرے، دیوث ہے! جس نے شہرت کا لبادہ اوڑھا اللہ اسے ذلت کا لباس پہنائے گا! اللہ نے دیوث اور دیونہ پر لعنت فرمائی! دیوث کو امام بنانا گناہ ہے افاسق کی شہادت بعد تو بہ ظہور صلاح تک موقوف ہوگی! الجواب: اگر واقعی محض شہرت اور ناموری کی خاطر اپنی تعریف لکھتا چھاپتا ہے اور جس کی بیوی بے پردہ پھرتی ہے اور وہ حتی الامکان منع نہیں کرتا، اس کی بے پردگی سے راضی ہے، سخت فاسق و دیوث ہے۔ حدیث میں ایسے کے لئے وعید آئی ہے کہ: من لبس ثوب شهرة ألبسه الله ثوب ذل او مذلة ) جو شہرت کا جامہ اوڑھے گا اللہ اس کو ذلت کا جامہ اوڑھائے۔ اور دیوث کے بارے میں فرمایا گیا: لعن الله الديوث والديوثة“ یعنی اللہ تعالیٰ نے دیوث مرد و عورت پر لعنت فرمائی۔ ایسے کو امام بنانا گناہ ہے۔ غنیہ میں ہے: ،، لوقدموا فاسقاياثمون (٢) اور اس کی اقتداء میں نماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہے کہ پڑھنی گناہ اور پھیر نی واجب ہے۔ در مختار میں ہے : كل صلاۃ ادیت مع كراهة التحريم تجب اعادتها (۳) یہ حکم اس وقت تک ہے جب تک تو بہ کے بعد صلاح حال ظاہر نہ ہو جائے۔ عالمگیری میں ہے: "الفاسق اذا تاب لا تقبل شهادته مالم يمض عليه زمان يظهر عليه اثر التوبة-الخ () واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صبح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی